خطبات محمود (جلد 5) — Page 275
خطبات محمود جلد (5) ۲۷۵ کی طرح کہتے ہیں کہ ہم پر بھی کسی کا حق نہیں ہے کہ اس سے عہد کو پورا کریں۔جو کوئی اس گورنمنٹ کے ملک میں رہتا ہے وہ گویا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ میں اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کروں گا۔پس جب تک وہ اس کے ماتحت ہے اس کا فرض ہے کہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے۔اور اپنے اس عہد کو پورا کرے۔اگر وہ دیکھتا ہے کہ مجھ پر ظلم ہوتا ہے۔مجھ سے انصاف نہیں کیا جاتا تو اسے چاہئے کہ اس حکومت سے نکل جائے۔ہم ایسے شریر اور مفسد لوگوں کو جو گورنمنٹ کے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلاتے رہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ اگر تمہارے نزدیک گورنمنٹ ظالم ہے تو اس کے ملک کو چھوڑ دو۔اور پھر جو تمہارا جی چاہے کرو لیکن چونکہ ایسے لوگ فریبی اور دغا باز ہیں اس لئے وہ ایسا نہیں کر سکتے۔اور یونہی جھوٹ پھیلاتے رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید ان کے ساتھ نہیں ہے اور یہ دن بدن ذلیل اور رسوا ہور ہے ہیں۔غرض اس آیت کو اگر نہ بھی لیا جائے تو بھی کفار سے امانتوں اور عہدوں کی پابندی کرنے کا حکم موجود ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہے آپ فرماتے ہیں کہ کافر سے بھی بدعہدی کرنے کا حکم نہیں ہے۔صلح حدیبیہ میں کفار سے ایک یہ بھی شرط ہوئی تھی کہ اگر تمہارا آدمی ہم میں آملے تو ہم اُسے تمھیں واپس لوٹا دیں گے۔اور اگر ہمارا آدمی تم میں جائے تو تم اسے اپنے پاس رکھ سکو گے۔عہد میں یہ شرح لکھی جا چکی تھی اور ابھی دستخط نہیں ہوئے تھے کہ ایک شخص ابو جندل نام جسے لوہے کی زنجیروں سے جکڑ کر رکھا جاتا اور جو بہت کچھ دکھ اُٹھا چکا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر اپنی حالت زار بیان کی۔اور عرض کیا۔یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔یہ لوگ میرے مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف دیتے ہیں۔صحابہ نے بھی کہا۔یا رسول اللہ اسے ساتھ لے چلنا چاہیئے۔یہ کفار کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھا چکا ہے لیکن اس کے باپ نے آکر کہا کہ اگر آپ اسے اپنے ساتھ لے جائینگے تو یہ غداری ہوگی۔صحابہ نے کہا کہ ابھی عہد نامہ پر دستخط نہیں ہوئے اس نے کہا لکھا تو جا چکا ہے دستخط نہیں ہوئے تو کیا ہو ا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے واپس کر دو۔ہم عہد نامہ کی رُو سے اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔صحابہ اس بات پر بہت تلملائے لیکن آپ نے اُسے واپس ہی کر دیا اور وہ