خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 277

خطبات محمود جلد (5) ۲۷۷ تو پھر اور بات ہے۔لیکن جو اپنے آپ کو رعایا ظاہر کرتے ہوئے اس عہد کو تو ڑ تا ہے وہ غداری کرتا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مسلمان ایک عیسائی حکومت لے کے ماتحت جا کر رہے ہیں۔اگر کافر کے ماتحت رہنا جائز نہ ہوتا اور اس کی اطاعت فرض نہ ہوتی تو مسلمان وہاں کیوں رہتے۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مذہب حکومت کی اطاعت کرنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے۔اب میں اس آیت کو لیتا ہوں۔اس سے بھی ان مفسد لوگوں کی بات نہیں بنتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ۔اگر یہاں أولى الْأَمْرِ مِنْكُمْ کے وہی معنے لئے جائیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو قرآن کریم کی دوسری آیات کے معنی کرنے میں بڑی مشکل پیش آئے گی۔سورہ زمر میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب قیامت کے دن کفار دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کا داروغہ انہیں کہے گا کہ آلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ (زمر - ۷۲) اگر اولی الْأَمْرِ مِنْكُمْ کے یہی معنی ہیں کہ مسلمانوں میں سے ہی اُولی الامر ہونا چاہئیے نہ کہ کوئی اور تو یہاں یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ کفار کو کہا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی یعنی کا فر رسول نہیں بھیجے گئے تھے۔اور اس طرح یہ ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ حضرت موسیٰ۔حضرت عیسی وغیرہ انبیاء کا فر تھے۔لیکن کیا کوئی عقلمند یہ معنے کر سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ جو کسی کی طرف بھیجا جائے اسے بھی منکم کہتے ہیں۔اور یہ ضروری نہیں کہ صرف ہم مذہب ہی کو منکم کہیں۔کیونکہ اگر یہ معنی کئے جائیں تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ نبی کفار کے ہم مذہب تھے۔کیونکہ کافروں کو مخاطب کر کے نبیوں کی نسبت کہا ہے کہ وہ منکم تھے۔لیکن یہ معنی کوئی نہیں کرتا۔پھر ادھر قرآن کریم غداری اور بیوفائی سے بڑے زور کے ساتھ روکتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ منکھ سے مراد یہ نہیں کہ ہو۔مسلمان ہی اُولِى الأمرِ ہو اب اگر کوئی کہے کہ یہاں منکم سے مراد ہم قوم ہے اور چونکہ وہ نبی جن کی طرف آتے رہے ان کے ہم قوم تھے۔اس لئے ان کی نسبت منکم کا لفظ استعمال کیا گیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بہر حال یہ تو تسلیم کرنا پڑا کہ منکم کے معنے ہم مذہب ہی نہیں لے حبشہ کی حکومت ( ناقل)