خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 559

۵۵۸ 74 خطبات محمود جلد (5) خلاصه خطبہ جمعہ فرموده ۲۱ ستمبر ۱۹۱۷ء بر کوٹھی شہزادہ بہادر واسد یوصاحب بمقام شمله تشہد وتعوذ کے بعد حضور نے خطبہ جمعہ میں اپنی جماعت کو نصیحت کی کہ دنیا اس وقت سامانوں پر جھکی ہوئی ہے۔اور محض سامانوں کو ہی سب کچھ سمجھتی ہے۔اور قرآن کریم گو ہم کو سامانوں کے استعمال سے نہیں روکتا۔مگر فرماتا ہے : سامانوں کے پیدا کرنے والے پر ہی تو کل رکھو۔حضور نے سورۃ ق رکوع ۲ سے ولقد خلقنا الانسان و نعلم ما تو سوس به نفسه ونحن اقرب اليه من حبل الوريد کی تلاوت فرمائی۔اور فرمایا: اس میں آریہ سماج کا بھی رڈ ہے۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق نہیں مانتے جو ان کا پیدا کر نیوالا ہی نہ ہووہ بھلا ان کی ضروریات کا کیونکر عالم ہو سکتا ہے۔اور ان کیلئے سامان کیونکر بہم پہنچا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ہم اس کے دل کی باتوں کو جانتے ہیں۔اس کے قلب کے وساوس کا علاج ہم کو معلوم ہے اور ہم اس کا اصلی سہارا ہیں۔اقرب کو ظاہر پر محمول نہ کرنا چاہئیے۔بلکہ اس کے اصلی معنے ہیں :۔اصلی سہارا اور علاج ہم ہیں۔ہم سے ذرا قطع تعلق ہوا تو انـــان مَر