خطبات محمود (جلد 5) — Page 269
خطبات محمود جلد (5) ۲۶۹ اور ہوشیار رہتے ہیں۔اور اس پر کبھی اعتبار اور بھروسہ نہیں کرتے اس لئے وہ قوم گر جاتی ہے اور دن بدن زیادہ ہی زیادہ گرتی جاتی ہے۔مسلمانوں کی تجارتیں حکومتیں۔عزتیں سب انہی باتوں کی وجہ سے ضائع ہو گئیں اور وہ ذلت اور رسوائی کی آخری حد کو پہنچ گئے لیکن ان کے خیال سے یہ بات ابھی تک نہیں گئی کہ کافروں سے غداری بد عہدی اور فریب وغیرہ جائز نہیں۔اس زمانہ میں مسلمان بظاہر سارے کے سارے اپنے آپ کو گورنمنٹ کے بڑے وفادار اور ہمدرد ظاہر کرتے ہیں۔لیکن انہیں اندر سے دیکھو تو چپکے چپکے یہ پھیلا رہے ہیں کہ مسلمانوں کو تو اولی الامر منکم کی اطاعت کا حکم ہے نہ کہ دوسرے جو آکر حاکم بن جائیں ان کی اطاعت کا بھی۔یہاں میرے پاس ایک معزز غیر احمدی آیا۔بڑی ثقہ صورت بنا کر کہنے لگا۔مجھے آپ سے چند مسائل دریافت کرنے ہیں۔میں نے کہا کیجئے۔اس نے قرآن کریم سے چند ایک جہاد کے متعلق آیتیں پڑھیں۔اور کہنے لگا ان میں تو جہاد کا حکم ہے۔اب کیا ہم مسلمانوں پر نفاق کا فتویٰ تو نہیں عائد ہورہا ئیں نے سمجھا کہ یہ میرا عند یہ معلوم کرنا چاہتا ہے۔میں نے اسے خوب کھول کھول کر بتایا۔ایسے لوگ چونکہ ایمانی قوت نہیں رکھتے اس لئے بات اس رنگ میں کرتے ہیں اگر مشکل پیش آ جائے تو پہلو بدل سکیں۔اسی طرح اس نے کیا۔اگر وہ یہ سوال کرتا۔کہ ان آیتوں میں جہاد کا حکم ہے پھر مسلمان جہاد کیوں نہیں کرتے انہیں جہاد کرنا چاہئیے تو پہلو بچانے کا اسے کوئی راستہ نہ تھا۔لیکن اس نے اس سوال کو اس طریق سے کیا کہ یہ جو جہاد کے متعلق آیات ہیں۔ان کے کیا معنی ہیں اور اگر ان کے یہ معنے ہیں تو کیا ان کے خلاف کرنے والوں پر نفاق کا فتویٰ تو نہیں لگتا۔میں نے اسے ان آیتوں کے معنے سمجھائے۔سنگر کہنے لگا۔ہاں آپ کے کئے ہوئے معنی مجھے بہت پسند آئے ہیں پہلے میں کچھ اور معنے سمجھے ہوئے تھا۔تو عام مسلمانوں کا مذہب اور عقیدہ یہی ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو مسلمان حکمران کی اطاعت کا ہی حکم دیا ہے نہ کہ غیر مسلم سلطنت کا بھی۔مگر ان سے پوچھو کہ مسلمانوں نے مسلمان حکمرانوں کی کہاں اطاعت اور فرمانبرداری کی ہے۔تم پر چونکہ مسلمان حکمران نہیں اس لئے تم کہتے ہو کہ مسلمان حکمران کی اطاعت کرنی چاہئیے نہ کہ کسی اور کی لیکن یہ تو بتلاؤ کہ ترک کمبخت کیا کر رہے ہیں ان کے چھوٹے سے لے کر بڑے تک اور ادنی سے لے کر اعلیٰ تک تمام افسر ایسے ہی ہیں کہ جنہوں نے قوم اور ملک