خطبات محمود (جلد 5) — Page 270
خطبات محمود جلد (5) ۲۷۰ کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔وہ قوم قوم پکارتے ہیں لیکن جس قدر ان کے ہاتھوں قوم کی مٹی پلید ہورہی ہے اس قدر کسی اور نے بھی نہیں کی۔بات یہ ہے کہ جب تک انسان پر کوئی بات آنہیں پڑتی۔اس وقت تک جو اس کا جی چاہے دعویٰ کر لے۔لیکن جب آپڑتی ہے تو سب دعووں کی حقیقت کھل جاتی ہے۔اس وقت مسلمانوں کی عملی زندگی بتلا رہی ہے کہ ان کے اخلاق بگڑ چکے اور جھوٹ۔دغا۔فریب اور بدعہدی کے جراثیم ان میں سرایت کر چکے ہیں۔وہ غلط کہتے ہیں کہ ہم دوسروں کی اطاعت نہیں کرتے اگر مسلمان حکمران ہوں تو ان کی کریں۔یہ کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔حضرت ابوبکر۔حضرت عمر۔حضرت عثمان "۔حضرت علی۔کی بھی حکومت ہوتی اور یہی آجکل کے مسلمان ہوتے تو ان سے بھی بغاوت اور بدعہدی ہی کرتے۔خواہ کوئی حکمران ہوتا یہ کسی کی بھی اطاعت اور فرمانبرداری نہ کرتے۔کیوں؟ اس لئے کہ ان میں امانت۔دیانت۔وفاداری اور اطاعت کا مادہ ہی نہیں رہا۔اگر ان میں یہ مادہ ہوتا اور یہ بچے دل سے مسلمان بادشاہوں کے وفادار اور اطاعت شعار ہوتے تو ترکوں میں ایک سے ایک بڑھ کر غداری کرنے والے اور اپنے ملک اور قوم کو تباہ و برباد کرنے والے دکھائی نہ دیتے۔بلغاریہ سے جب ترکوں کی لڑائی ہوئی تو ترکوں کے بڑے بڑے افسروں نے ترکوں کو بجائے گولہ بارود پہنچانے کے لکڑی کے بنے ہوئے کارتوس پہنچائے۔پھر دشمن حملہ آور ہو رہا ہے۔سپاہ لڑ رہی ہے اور کئی دنوں سے لڑ رہی ہے لیکن ذمہ دار افسر اُن کے لئے کھانا نہیں بھیجتے۔سپاہیوں کی بھوک سے یہ حالت ہو رہی ہے کہ بندوقیں ہاتھوں سے گر گر جاتی ہیں۔بھوک کے مارے ان سے سیدھا کھڑا نہیں ہوا جاتا۔لیکن اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اور نہایت بیدردی سے دشمن کے ہاتھ سے بھوکی اور پیاسی سپاہ کو ہلاک اور تباہ کروادیا جاتا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ ان میں غداری اور بے وفائی دخل پا چکی تھی۔خیانت اور بددیانتی انکی عادت ہو چکی تھی۔اب ان مسلمانوں کو دیکھو جو عیسائی سلطنتوں کے ماتحت ہیں۔ان کے وہ اخلاق مٹ چکے ہیں جو ایک مومن کی شان کے شایاں ہیں۔ان میں طرح طرح کی خرابیاں اور کمزوریاں پیدا ہو چکی ہیں۔پس اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم پر چونکہ ایک غیر قوم حکمران ہے اس لئے ہم اس کی اطاعت نہیں کرتے۔تو یہ ان کا محض بہانہ ہے اگر ان کو کسی ایسے مسلمان بادشاہ کے ماتحت بھی کر دیا جائے جو بڑا ہی نیک اور عادل