خطبات محمود (جلد 5) — Page 179
خطبات محمود جلد (5) 129 نہیں اٹھا سکتا۔ایک چپڑاسی بادشاہ کے دربار میں جاتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی کرسی پر بیٹھ سکے۔اسی طرح چتر اٹھانے والا وزیر سے بھی زیادہ بادشاہ کے قریب بیٹھا ہوتا ہے مگر کیا وہ وزیر کی گرسی پر بیٹھنے کی جرات کر سکتا ہے ہر گز نہیں تو انسان خدا کے نزدیک ہونے سے یہ تو نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ اس کی دعا بھی قبول کر لے گا اور وہ اس وجہ سے فائدہ حاصل کر لے گا۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے ایک ایسا گر بتایا ہے جس میں اس سوال کا جواب بھی آجاتا ہے اور جو عام طور پر فطرتِ انسانی میں کام کرتا نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی۔تم میری ہر ایک بات مان لیا کرو۔اور جو حکم ہم نے تمہارے لئے بھیجے ہیں۔ان پر عمل کرو۔اور اپنے تمام حرکات وسکنات کو شریعت کے ماتحت لے آؤ تو پھر تمہاری دعا میں قبولیت بہت بڑھ جائے گی کیوں؟ اس لئے کہ خادم کو انعام اس وقت ملا کرتا ہے جبکہ آقا خوش ہوتا ہے۔اگر کوئی خادم اپنے آقا کو ناراض کر کے مانگتا ہے تومحروم رہتا ہے اس طرح کبھی کسی کو انعام نہیں ملا کرتا۔کیونکہ ناراضگی کا وقت ایسا نہیں ہوتا جبکہ انعام و اکرام دیا جائے۔چھوٹے بچوں ہی کو دیکھ لو۔انہیں کوئی سمجھ نہیں ہوتی لیکن اگر ماں باپ سے کچھ مانگنے آئیں اور انہیں غصہ میں دیکھیں تو چپکے ہو کر الگ بیٹھ جاتے ہیں۔لیکن جب خوشی میں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ چیز لے دو۔وہ لے دو۔تو بچے بھی سمجھتے ہیں۔کہ غصہ میں ہماری بات نہیں مانی جائے گی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کوئی بلا وجہ نہیں ہؤا کرتی۔اسی وقت ہوتی ہے جبکہ اس کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے۔پس دعا میں قبولیت حاصل کرنے کا ایک رنگ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال پر غور کرے کہ کوئی فعل اس سے شریعت کے خلاف تو نہیں ہو گیا۔ہر ایک کام جو وہ کرے شریعت کے ماتحت کرے جب یہ حالت پیدا ہو جائے گی تو اس کی دعا قبول ہو جائے گی۔جس طرح ایک محنتی طالب علم جو اچھی طرح سبق یاد کر کے لاتا ہو۔استاد کے نزدیک اس کی بات زیادہ مانی جاتی ہے بہ نسبت اس لڑکے کے جو یاد کر کے نہ لاتا ہو۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اگر طلباء نے چھٹی لینی ہو تو جولٹ کالائق ہوا سے استاد کے پاس بھیجتے ہیں تا کہ وہ چھٹی مانگے۔اس کی ایک وجہ ہوتی ہے اور وہ یہ کہ طالب علم سمجھتے ہیں کہ اگر ایسے لڑکوں نے چھٹی مانگی جو سکول کا کام