خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 178

خطبات محمود جلد (5) ۱۷۸ ہیں جو قبول ہونے والے ہوتے ہیں۔تو ایسے انسانوں کے دعا کرنے کے دو طریق ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام یا کشف یا وحی یا رویا کے ذریعہ سے انہیں بتا دیا جاتا ہے کہ یہ دعا مانگو۔دوسرا یہ کہ اگر وہ کوئی ایسی دعا مانگنے کی نیت کرے جو قبول نہ ہونے والی ہو تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا تصرف ہوتا ہے کہ ان کی نیت بالکل بدل جاتی اور یہ خواہش ہی بالکل جاتی رہتی ہے کہ دعا کرے پھر جو الفاظ اور جو طریق اس دعا کے کرنے کے لئے اس کے مد نظر ہوتا ہے وہ بھول جاتا ہے اور زبان سے خدا کی طرف سے بنے بنائے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں جس سے خود بھی حیران رہ جاتا ہے۔کہ میں کہنا کیا چاہتا تھا اور کہہ کیا رہا ہوں اس قسم کی دعا میں وسعت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اتنی کہ دو دو گھنٹے گزر جاتے ہیں مگر انسان سمجھتا ہے کہ کوئی پانچ چھ منٹ ہوئے ہونگے۔وقت گزرتے ہوئے بھی پتہ نہیں لگتا کیونکہ وہ ایسا محو ہوتا ہے کہ اس دنیا سے اس کا دل و دماغ بالکل کھینچ جاتا ہے۔اور صرف خدا ہی خدا اسے نظر آتا ہے۔مگر یہ کوئی ایسا طریق نہیں ہے جس کے متعلق ہر ایک انسان کو کہہ دیا جائے کہ اس طرح کیا کرو۔کیونکہ یہ مرتبہ سے تعلق رکھتا ہے جس کا پانا کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔پس جبکہ یہ انسانی اختیار میں ہی نہیں تو اس پر عمل کرنا یا کر سکنے کے کیا معنے ؟ اس لئے میں یہ طریق بھی نہیں بتاؤں گا بلکہ وہ بتاؤں گا جس میں بندے کا اختیار اور تصرف ہو۔لیکن اس سے یہ نہیں ہوگا کہ ساری کی ساری دعائیں قبول ہو جاتی ہیں بلکہ یہ کہ زیادہ قبول ہوتی ہیں۔پس سب سے پہلا طریق جو میں بتانا چاہتا ہوں۔وہ اسی آیت میں ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُون میرے بندے جب میری نسبت سوال کریں۔یعنی کہیں کہ خدا کس طرح دعا قبول کرتا ہے تو کہو فیائی قریب۔میں سب سے بہتر مدعا کو پورا کرسکتا ہوں۔کیونکہ میری ایک صفت یہ بھی ہے کہ میں ہر ایک چیز کے قریب ہوں۔دعا کرنے والے کے بھی۔اور جس مدعا کے لئے دعا کی جائے اس کے بھی۔یہاں ایک سوال ہو سکتا تھا۔اور وہ یہ کہ ہرا یک قریب ہونے والا تو فائدہ