خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 180

خطبات محمود جلد (5) ۱۸۰ اچھی طرح نہیں کرتے تو استاد کہے گا کہ پڑھائی سے بچنے کے لئے چھٹی لیتے ہیں اور اگر لائق لڑکے مانگیں گے تو پھر ایسا خیال نہیں کیا جائے گا چونکہ استاد پہلے بھی ان پر خوش ہوتا ہے اس لئے رخصت دے دیگا۔خدا تعالیٰ بھی اسی کی دعا قبول کرتا ہے جو اس کو راضی رکھتا ہے اسلئے فرمایا فَلْيَسْتَجِيبُوا لی۔میرے بندوں کو چاہیے کہ اگر وہ اپنی دعاؤں کو قبول کروانا چاہتے ہیں تو میری باتیں مان لیا کریں۔اگر یہ میرے احکام کو قبول کریں گے اور ان پر عمل کریں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی دعائیں قبول ہو جائیں گی خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو مومن کا ولی قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما یا کرتے تھے۔دوست اسے نہیں کہتے جو ہر ایک بات مان لے بلکہ اسے کہتے ہیں جو کچھ مانے اور کچھ منوائے۔اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو مؤمنوں کا ولی فرماتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی باتیں بندہ کی میں مان لیتا ہوں۔اور بہت سی اسے ماننی چاہئیں۔خدا فرماتا ہے کہ جو مجھے پکارتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔مگر اس کے قبول ہونے کا طریق یہ ہے کہ وہ بھی میری باتیں قبول کرے۔وہ میرے احکام کو مانے پھر اسے جو تکلیفیں اور مصیبتیں پیش آئیں گی ان کو میں دور کروں گا۔گویا خدا تعالیٰ ایک عہد کرتا ہے کہ تم میری باتیں مانو میں تمہاری مانوں گا تو دعا کے قبول ہونے کا یہ پہلا گر خدا تعالیٰ نے اس آیت میں بتا دیا ہے۔دوسرا گر بھی اسی آیت میں ہے اور وہ یہ کہ فرمایا۔وَلْيُؤْمِنُوا پی۔اگر میرے بندے دعا قبول کروانا چاہتے ہیں تو اس کا دوسرا طریق یہ ہے کہ مجھ پر ایمان بھی لا ئیں۔بظا ہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ زائد الفاظ ہیں کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی تمام باتیں مانے گا ضرور ہے کہ وہ ایمان بھی لائے گا اور جو ایمان نہیں لائے گا وہ مانے گا بھی نہیں۔مثلاً جو نماز پڑھے گا روزے رکھے گا۔زکوۃ دے گا۔حج کرے گا۔وہ یونہی نہیں کرے گا اور نہ ہی رسمی طور پر۔کیونکہ رسمی طور پر کرنے کی خدا تعالیٰ نے پہلے ہی نفی فرما دی ہے۔کیونکہ پہلے یہ نہیں فرمایا کہ اگر تم شریعت کے حکموں پر عمل کرو گے تو میں ا حقیقة الوحی ص ۱۸۔