خطبات محمود (جلد 5) — Page 143
خطبات محمود جلد (5) ۱۴۳ ہو گئی ہیں اس لئے سب زمانوں سے زیادہ دعا کی ضرورت ہے۔کیونکہ مقابلہ کے لئے ہر رنگ کے سامان پیدا ہو چکے ہیں۔یعنی شرارت کے علوم کے۔سائنس کے تاریخ وغیرہ کے اعتراض بڑھ رہے ہیں اور پوشیدہ تعلیمیں نکل رہی ہیں۔لیکن ان کا مقابلہ کرنے کی ہر ایک انسان میں طاقت نہیں ہے کیونکہ جب تک کوئی تمام علوم سے واقف نہ ہو اس وقت تک جواب نہیں دے سکتا۔اور تمام علوم سے واقف ہونا کوئی آسان بات نہیں۔پھر اس زمانہ کی ترقیوں نے لوگوں کو خدا تعالیٰ سے بالکل غافل کر دیا ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت مشکل کام ہو گیا ہے۔اب ان سامانوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا جو ہمارے ہاتھ میں ہیں بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئیے تھا۔کیونکہ اس آخری زمانہ میں خدا نے جو مصلح بھیجا ہے اس کا ہتھیار ہی خالص دعا ہے۔پہلے انبیاء کے وقت اور ہتھیار بھی استعمال کئے جاتے تھے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں جب تلوار اٹھائی گئی اور آپ کو سخت تنگ کیا گیا تو اس کا جواب انہیں تلوار سے ہی دیا گیا۔لیکن اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ کو تمام ہتھیاروں کی بجائے صرف دعا کا ہی ہتھیا ر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں جہاد کو قطعی حرام قرار دے دیا ہے۔ورنہ جہاد تو کہتے ہی اس مقابلہ کو ہیں جو دشمن کے سخت تنگ کرنے اور تکالیف دینے پر بطور اپنے بچاؤ کے کیا جاوے لیکن یہ وہ زمانہ ہے کہ اس میں اتنی بھی اجازت نہیں ہے۔تا کہ دعا اور صرف دعا سے ہی اس جماعت کی ترقی ہو۔کیونکہ اس زمانہ میں مقابلہ کے سامان کثرت سے پیدا ہو چکے ہیں۔اور دن بدن ہورہے ہیں لیکن دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جسے بریکارسمجھ کر چھوڑ دیا گیا ہے۔اور اس کے فائدہ رساں ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ دعا کے ذریعہ اس جماعت کو پھیلائے تا کہ ایک تو جو لوگ اس کے اثر سے منکر ہیں۔وہ قائل ہو جا ئیں۔دوسرے اس جماعت کے لئے آسانی ہو۔اس زمانہ میں یورپ کے لوگ جس آرام طلبی اور آسائش میں پڑے ہوئے ہیں۔ہم انہیں کہاں سمجھا سکتے ہیں سوائے اس کے کہ ہمارے مبلغ دعائیں کریں اور خدا کا فضل ان کے دلوں کو پاک کر کے حق کی طرف پھیر دے۔اس وقت ہمارے پاس دعا ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعہ ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔