خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 142

خطبات محمود جلد (5) ۱۴۲ ذرائع سے کام نہیں لیتے ان کی دعا بھی قبول نہیں ہو سکتی۔دعا بھی اس وقت قبول ہوتی ہے۔جبکہ دیگر ذرائع سے کام لیا جائے۔جس طرح دنیا میں سائل کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ وہ خود کوئی محنت اور مشقت نہ کر سکتا ہو یا جس قدر اس کی طاقت ہے اتنی کوشش کرے لیکن کامیابی نہ ہو اس کے لئے سوال کرنا جائز ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔حضرت عمرؓ جب کسی ایسے سائل کو دیکھتے جو طاقتور اور محنت کرنے کے قابل ہوتا تو جو کچھ اس نے سوال کر کے حاصل کیا ہوتا وہ بھی چھین لیتے اور کہتے جاؤ جا کر محنت کرو اور کھاؤ کیونکہ سائل وہی ہوسکتا ہے کہ جس قدر اس کی ہمت ہو اتنی کرے۔اس کے بعد اگر اسے مدد کی ضرورت ہو تو سوال کر لے۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کے لئے پکارنے سے پہلے انسان کے لئے ضروری ہے کہ جتنی اس کی اپنی طاقت اور ہمت ہو اس کو کام میں لائے اور پھر دعا کرے کہ اے مولیٰ !میں نے اپنی طرف سے سب طاقت اور ہمت خرچ کر دی ہے لیکن میں کمزور اور عاجز ہوں۔آپ میری مدد کیجئے۔جب اس طرح کوئی دعا کرے گا تو اس کے قبول ہونے میں کوئی روک نہیں ہو سکے گی۔لیکن اگر کوئی خود ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھا رہے اور۔بیٹھا ر ہے اور کہے کہ جو میں دعا کروں وہ قبول ہو جائے۔یہ ناممکن ہے۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے پاس بادشاہ آیا۔جس کو انہوں نے چند ایک نصیحتیں کیں۔مثلاً یہ کہ شراب نہ پینا ظلم نہ کرنا۔وہ کہتا گیا بہت اچھا۔جب انہوں نے کہا کہ شکار کم کھیلا کرنا تو کہنے لگا۔دعا کرو۔خدا مجھے ایسا کرنے کی توفیق دے۔انہوں نے کہا۔شکار چھوڑنے کی تمہاری نیست نہیں ہے مگر اور باتوں کے متعلق تم نے دعا کے لئے کیوں نہ کہا اور اس کے بعد کہ دیا۔معلوم ہوتا ہے اس طرح تم ٹالنا چاہتے ہو۔یہی حال آج کل لوگوں کا ہے۔جس بات کو محنت سے نہ کرنا چاہتے ہوں یا سستی کی وجہ سے نہ کرتے ہوں اس کے متعلق چاہتے ہیں کہ دعا ہو جائے حالانکہ دعا اس شخص کے لئے ہتھیار ہے۔جو اپنی طاقت بھر محنت اور کوشش کرے۔اور پھر کامیاب نہ ہو سکے یعنی جس قدر اس سے ہوسکتا ہے وہ محنت کرتا ہے لیکن کامیاب نہیں ہوسکتا۔یا کسی مجبوری کی وجہ سے محنت کر ہی نہیں سکتا۔اس کے لئے دعا ہے جو کمی یا نقص اس کی محنت میں رہ جاتا ہے وہ دعا کے ذریعہ دور ہو جاتا ہے۔ہمارے اس زمانہ میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔سب سے زیادہ مشکلات پیدا