خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 50

خطبات محمود جلد ۴۔سال ۱۹۱۴ء ماموروں کے زمانہ میں بھی لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا اور ان پر مصائب آئے۔نیک لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ خدا کے رستہ میں پاؤں مارنا چاہتے ہیں تو ان کی آزمائش ہوتی ہے اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے اور وہ علم والا ہے تو اسے آزمائش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔امتحان تو وہ لیتے ہیں جنہیں علم نہیں ہوتا وہ امتحان لے کر دیکھتے ہیں کہ یہ آدمی کیسا ہے اور جب انہیں اس کا پتہ لگ جاتا ہے تو اسے مناسب انعام دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ آزمائش کرے وہ لا علم تو نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی آزمائش میں بھی ایک بہت بڑا فائدہ مدنظر ہے اور وہ فائدہ یہ ہے اور اس امتحان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اپنی حالت کو سمجھ لیتا ہے کہ اس کی حالت کیسی ہے اور اس کے ایمان کی کیا حالت ہے۔اپنے آپ کو تو ہر ایک شخص ہی نیک اور بڑا متقی اور پارسا سمجھتا ہے اور اپنے ایمان کو دوسرے آدمی کے ایمان سے زیادہ مضبوط سمجھتا ہے۔زید اور بکر جب ان دونوں کی خدا تعالی آزمائش کرتا ہے تو اگر زید کم ہمت بہ نسبت بکر کے نکلے تو اس وقت یہ شکایت اس کو نہ رہے گی کہ کیوں مجھ سے زیادہ بکر پر انعامات کئے جاتے ہیں اور مجھے کیوں کم نعمت ملتی ہے اور اسے شک کی گنجائش نہ ہوگی۔تو انسان کو آزمائش میں پڑ کر اپنی حالت کا پتہ لگ جاتا ہے۔انبیاء پر مصائب آئے اور ان پر طرح طرح کے ابتلاء آئے تو انہوں نے انعامات بھی حاصل کئے۔انبیاء پر اگر مصائب نہ آتے اور یونہی ان کو انعامات مل جاتے تو لوگ اعتراض کرتے۔اب بھی لوگ اگر کہیں کہ دیکھو موسی پر تو فلاں انعام ہوا وہ ہمیں کیوں نہ ملا تو تم کو چاہیئے کہ اپنی حالت اور موسیٰ کی حالت کا مقابلہ کرو۔اور ان کے مصائب اور اپنے مصائب کا مقابلہ کر کے دیکھو۔پھر دیکھو کہ کیوں ان کو زیادہ انعام ملا۔اسی طرح اگر کوئی اعتراض کرے کہ مسیح پر انعام ہوئے وہ ہمیں کیوں نہیں دیئے گئے تو وہ اپنی اور ان کی حالت کا مقابلہ کر کے اسی طرح نبی کریم صلی اسلام کے متعلق اعتراض کرنے والا اپنی حالت کو دیکھے اور پھر نبی ﷺ کریم صلی یا کہ یتیم کی حالت کو دیکھے کہ کس کو زیادہ مصائب جھیلنے پڑے اور کسے زیادہ مشکلات پیش آئیں۔اگر کوئی مشکل ان کو پیش نہ آتی تب تو یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ کیوں ان کو اتنے انعام دیئے گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو جو مشکلات پیش آئیں اور جو جو مصائب ان کو برداشت کرنے پڑے ان کا اندازہ کر لو۔اس قسم کی آزمائش اور امتحان جو