خطبات محمود (جلد 4) — Page 51
خطبات محمود جلد ۴ ۵۱ سال ۱۹۱۴ء ہو۔رتے ہیں وہ ایک تسلی دینے کیلئے ہوتے ہیں نبی کریم میایم کیو ایم کے وقت میں جو جو مصائب مسلمانوں کو جھیلنے پڑے ان آیات میں ان کا نقشہ بتلایا ہے۔فرمایا: مومنو! تم یاد کرو جبکہ لشکر آئے۔جب وہ تمہاری مشرقی جانب اور مغربی جانب سے آئے جبکہ آنکھیں پھر گئیں اور دل منہ کو آنے لگے اور تم بھی اور منافق بھی طرح طرح کے خیالات دوڑانے لگے۔مومن تو سمجھتے تھے کہ اب یہ ابتلاء جو ہم پر آیا ہے یہ ہمارے لئے رحمت کا موجب ہوگا اور ہمیں اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ملیں گے اور منافق یہ خیال کرنے لگے کہ اگر یہ سچے ہوتے تو ان پر مصیبت کیوں آتی۔اس وقت مومنوں پر ابتلاء آیا اور وہ بہت سخت ہلائے گئے اور منافق طرح طرح کی باتیں بنا کر کہنے لگے کہ تمام غلط باتیں ہیں اور یہ دھوکا ہے۔اور ان میں سے ایک گروہ نے یہ بھی کہا کہ اومیٹر ب والو! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے تم واپس لوٹ جاؤ۔اور ان میں سے ایک گروہ رسول سے اجازت مانگتا تھا کہ ہمارے مکان محفوظ نہیں ہیں۔ان کے مکان غیر محفوظ نہیں ہیں لیکن وہ تو جنگ سے بھاگنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ بھاگنا چاہتے ہیں۔اور اگر دشمن ان پر چڑھ کر اندر گھس آئے تو پھر اگر ان سے وہ مرتد ہونے کیلئے کہیں تو ضرور یہ مرتد ہو جاویں اور کفر کو اختیار کر لیں اور ذرا دیر بھی نہ کریں۔انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ تعالیٰ کے عہد کے متعلق سوال کیا جاوے گا۔ان کو کہ دو کہ تمہیں بھا گنا کچھ نفع نہ دے گا اگر تم بھاگے گئے تو تمہیں کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ تمہیں ضرر پہنچانا چاہے تو تمہیں کوئی بچا نہیں سکتا اور اگر اللہ تعالیٰ نفع دینا چاہے تو اس کی نعمت کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور ان کو بھی جانتا ہے جو دوسروں کو کہتے ہیں کہ لڑائی میں نہ جاؤ اور ہمارے پاس رہو۔وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تمہیں کچھ نفع ملے اور وہ تمہیں نفع پہنچانے کیلئے بخیل ہیں۔اور جب کوئی خوف آوے تو تو اُن کو دیکھے گا کہ ان کی آنکھیں پھرتی ہیں جیسے کسی پر موت کی خوشی ہو اور جب ان کو امن ہو جاوے تو پھر وہ تمہیں بڑی سخت اور تیز زبانوں سے یاد کرتے ہیں۔ان کے اعمال ضائع ہو گئے۔وہ سمجھتے ہیں کہ دشمن ابھی گیا نہیں ہے اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ وہ باہر جنگل میں ہوں اور وہاں سے تمہاری خبریں سنیں اور اگر وہ تمہارے اندر بھی ہوں تو وہ نہ لڑیں مگر تھوڑا یعنی بالکل نہ لڑیں۔