خطبات محمود (جلد 4) — Page 49
خطبات محمود جلد ۴ ۴۹ (اله) سال ۱۹۱۴ء صدقہ وخیرات اور دعاؤں سے الہی نصرت حاصل کرو (مسند خلافت احمدیہ پر فائز ہونے کے بعد پہلا خطبہ جمعہ ) (فرموده ۲۰۔مارچ ۱۹۱۴ء بمقام قادیان) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ احزاب کا دوسرا رکوع پڑھ کر فرمایا:۔دعویٰ کرنے کو تو سب لوگ کر سکتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت اور امتحان کے موقع پر ہر انسان کی صداقت کا پتہ لگتا ہے اور اس وقت اس کے دعووں کا پتہ لگتا ہے کہ آیا وہ ٹھیک دعوے تھے یا کہ غلط۔بہت ہے لوگ اپنے آپ کو دلیر اور بہادر سمجھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تمام قوموں سے ممتاز ہیں لیکن مصیبت کے وقت ان کے تمام دعوے کھل جاتے ہیں اور ان کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔اس وقت مدعی اپنے تمام دعوے بھول جاتے ہیں اور بجائے شیخی جتلانے کے اب پھر وہ ڈرنا شروع کر دیتے ہیں۔چوہوں کی مثل مشہور ہے کہ ایک دفعہ بلی سے جو چوہے ست گئے تو چوہوں نے باہم مل کر مشورہ کیا کہ بلی جب آوے تو اسے پکڑ لو۔تو کسی نے کہا میں اس کے ہاتھ کو لپٹ جاؤں گا کسی نے کہا کہ میں اس کا ہے کان پکڑ لوں گا، کسی نے ڈم، کسی نے کچھ، غرض کہ ساری چیزیں انہوں نے تقسیم کر لیں۔ان میں ایک بوڑھا چوہا بھی تھا۔اس نے کہا کہ تم سب کچھ پکڑ تو لو گے لیکن اس کی میاؤں کو کون پکڑے گا اس نے جب ایک ہی آواز دی تو تم سب ڈر کر بھاگ جاؤ گے کوئی وہاں نہ ٹھہرے گا۔در حقیقت بہت سے لوگ ضدی ہوتے ہیں، ابتلاؤں کے وقت استقامت نہیں دکھا سکتے بزدلی دکھاتے ہیں سب انبیاء کے زمانہ میں ایسا ہوا اور تمام