خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 541

خطبات محمود جلد ۴ ۵۴۱ سال ۱۹۱۵ء وہ اس انسان کے مرنے کے بعد بھی جس کے ذریعہ اس کی بنیاد رکھی جاتی ہے زندہ رہتا ہے، وہ انسان مر جاتا ہے لیکن وہ کام نہیں مرتا۔تمہیں یاد ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر بہت سے لوگ تھے جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ اب یہ سلسلہ مٹ جائے گا۔کیونکہ جس کے سہارے چل رہا تھا وہ مر گیا ہے لیکن ہم نے انہیں کہا تھا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ جس کے سہارے یہ سلسلہ چل رہا تھاوہ مر گیا ہے ، وہ نہیں مرا اور نہ مرسکتا ہے۔چنانچہ ان کو پتہ لگ گیا کہ واقعی ہم نے جو کچھ کہا تھا غلط کہا تھا لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ مولوی نورالدین کے ذریعہ چل رہا ہے یہ بڑے عالم اور فاضل ہیں ، مرزا صاحب کو بھی یہی ہے کتا ہیں لکھ کر دیا کرتے تھے، اس لئے اب ان کے سہارے یہ کھڑا ہے۔لیکن ایک وقت آیا جبکہ مولوی صاحب بھی دنیا سے رخصت ہو گئے تو مخالفوں نے سمجھ لیا کہ اب احمدی مر گئے۔چنانچہ بہت سی جگہوں سے اس قسم کے خط آئے خدا تعالیٰ کبھی حق کے مخالفین کو تھوڑے عرصہ کیلئے خوش بھی ہونے دیتا ہے جیسا کہ جنگ احد کے وقت مسلمانوں کی بظاہر شکست دیکھ کر کفار خوش ہوئے تھے یا جس طرح حدیبیہ کا واقعہ ہوا تھا۔تو مولوی صاحب کی وفات بھی جنگ احد اور صلح حدیبیہ کی طرح سمجھ لو اس لئے مخالفین نے سمجھا کہ اب یہ گئے۔پھر یہ بھی ہوا کہ ہم میں سے کچھ آدمی مرتد بھی ہو گئے جن کا ارتداد یہ نہ تھا کہ انہوں نے سلسلہ کا انکار کر دیا بلکہ یہ کہ سلسلہ کی طاقت کو توڑناچاہا اور عملاً ان باتوں کو روکنا چاہا جو حضرت مسیح موعود نے اپنے متبعین کیلئے فرض قرار دی تھیں۔دشمن ان کی برگشتگی سے خوش ہو گئے کیونکہ وہ سمجھے بیٹھے تھے کہ مولوی نور الدین صاحب اس سلسلہ کی دیوار میں ہیں اور یہ لوگ تھمیاں۔لیکن وہ جس کو دیوار میں سمجھتے تھے وہ گر گئیں اور جن کو ستون سمجھتے تھے وہ ٹوٹ گئے لیکن چھت ایک انچ بھی نیچے نہ آئی بلکہ اور اونچی اٹھی جو اس بات کا زبردست ثبوت ہے کہ یہ سلسلہ کوئی نظر آنے والے اسباب کے ذریعہ نہیں چل رہا بلکہ ایسے اسباب پر چل رہا ہے جو نظر نہیں آتے۔کیونکہ نظر آنے والے ہٹتے جاتے ہیں مگر سلسلہ کو ذرا بھی جنبش نہیں ہوتی بلکہ اور مضبوط ہوتا ہے۔جس کا ایک ثبوت جلسہ سالانہ سے مل سکتا ہے تو ہر ایک جلسہ ایمانوں کو تازہ کرنے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کو ملاحظہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں بڑی کمزوریاں ہیں، ہم محسوس کرتے ہیں کہ جو تبلیغ پہلوں نے کی تھی وہ ابھی ہم نے نہیں کی اور یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ جو قربانیاں پہلوں نے کی