خطبات محمود (جلد 4) — Page 542
خطبات محمود جلد ۴ ۵۴۲ سال ۱۹۱۵ء تھیں وہ ہم نے نہیں کیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک غیبی طاقت کے ذریعہ لوگ ہماری طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔مخالفانِ اسلام کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا لیکن ہم کہتے ہیں کہ آج گورنمنٹ انگریزی کے ماتحت کون کسی کو مجبور کر رہا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ وہ آزاد اور متکبر لوگ جو کسی کے آگے اپنی گردنیں نہیں جھکاتے جب ان کی اصلاح کا وقت آتا ہے تو بے اختیار قادیان کی طرف بھاگے چلے آتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب خدا تعالیٰ نے ایک نظارہ دکھایا تو انہوں نے کہا کہ الہی ! میری تسلی کیلئے یہ فرمائیے کہ مردہ قومیں کیونکر زندہ ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا۔یہ تو آسان بات ہے۔چار جانور لو اور ان کو سدھا لو۔پھر انہیں الگ الگ پہاڑ پر رکھ دو پھر آواز دو۔وہ تمہارے پاس دوڑتے آئیں گے ۲۔یہی طریق قوموں کے زندہ کرنے کا ہمارا ہے۔جب تم نے جن جانوروں کو تھوڑے دن دانے ڈالے وہ تمہارے بلانے پر دوڑتے آتے ہیں تو پھر وہ انسان جس کو ہم نے پیدا کیا ہے اس کو جب ہم آواز دیں گے تو کیوں نہ آئے گا تو اس طرح قلوب کا ایک طرف جھک جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسی کی طرف سے تحریک ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ دھو کے میں آکر کسی کی طرف جھک جائیں۔جس طرح جانور بھی دھوکا کی وجہ سے شکاری کے جال میں جانتے پھنستا ہے۔لیکن ان دونوں صورتوں میں صاف اور بین فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ دھو کہ خوردہ انسان دھوکہ خوردہ پرندہ کی طرح حیران اور سرگردان نظر آتا ہے۔لیکن جس نے دھوکہ نہ کھایا ہو وہ مطمئن اور تسکین یافتہ ہوتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں یہ کشش ہونا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ان کے پیدا کرنے اور پالنے والے کی طرف سے ہے۔کیونکہ وہ اس سے اطمینان اور سکینت پاتے ہیں۔غرض یا تو وہ دن تھا کہ مولویوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ مرزا کو ( نَعُوذُ بِاللهِ) نابود کر دینا چاہیئے اور ایک یں نے تو یہاں تک لکھ دیا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو بڑھایا ہے اور میں ہی گھٹاؤں گا۔مگر جس کو خدا نے بڑھائے اسے کون گھٹا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود کوخدا تعالیٰ نے بڑھا یا اور بڑھا رہا ہے ان کے مخالفین کے دلوں پر ہر سال ایک زخم لگتا ہے، یوں تو ہر روز ہی زخم کھاتے ہیں مگر ہر سال جلسہ کی وجہ سے تو بڑا کاری زخم لگتا ہے۔اسی سال دیکھ لو پچھلے سالوں کی نسبت بہت لوگ آئے ہیں جن کے اخلاص پہلے کی نسبت بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں اور بہت سوں نے بیعت کی ہے۔ہمارے مخالفین اس حیرت اور حیرانی