خطبات محمود (جلد 4) — Page 540
خطبات محمود جلد ۴ ۵۴۰ سال ۱۹۱۵ مٹ گئے تھے اور ان پر پردہ پڑ چکا تھا۔لیکن جو نہیں آنحضرت سال ایم آئے کچھ لوگ اندھے ہو گئے اور کچھ سو جاکھے یعنی جنہوں نے خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر آپ کو قبول کر لیا وہ سو جاکھے ہو گئے اور جنہوں نے ان نشانات سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور ان کی طرف توجہ نہ کی وہ اندھے ہو گئے اور ایسا آپ کی آمد کے ساتھ ہوا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا بہتوں کو گمراہ بھی کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بھی دیتا ہے کیونکہ جب تک قرآن شریف نہ آیا تھا کوئی گمراہ کس طرح کہلا سکتا تھے گمراہ تو وہ ہوتا ہے جو راستہ سے بھٹکا ہوا ہو لیکن جب راستہ ہی نہ ہوتو گمراہ کیسا؟؟ لوگوں نے اس آیت سے دھوکا کھایا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ قرآن شریف میں ایسی باتیں بھی ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں بلکہ یہ ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ مٹ چکا تھا اس لئے کوئی گمراہ کیسے کہلا سکتا تھا لیکن جب قرآن نے آکر راستہ دکھلایا تو پھر جو اس پر نہ چلا وہ گمراہ ہو گیا۔پہلے تو ہدایت تھی ہی نہیں لوگ جانوروں کی طرح تھے اس لئے وہ گمراہ نہ کہلا سکتے ہے تھے ، ہاں جب قرآن شریف کے ذریعہ ہدایت آئی تو اس وقت وہ گمراہ قرار دیئے گئے۔تو اندھے وہ ہوتے ہیں جو باوجود کسی چیز کے موجود ہونے کے نہ دیکھیں اور سو جا کے وہ جو خدا تعالیٰ کی معرفت کی باتوں کو دیکھ لیں۔ہمارے سامنے بھی خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے نظارے اور نشان موجود ہیں۔جلسہ سالانہ بھی ایک بہت بڑا نشان ہے جو ہر سال ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دیکھو خدا کی راستباز جماعت کس طرح اٹھتی اور کامیاب ہوتی ہے اور اس کے مخالف کس طرح ناکام اور نا مراد رہتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ قادیان میں ہر وقت ہی جلسہ ہوتا ہے اور ہر وقت ہی لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔پھر یہاں کچھ ہندوستان کے ، کچھ پنجاب کے، کچھ افغانستان کے، کچھ بنگال کے، کچھ یورپ کے، کچھ عرب وغیرہ کے لوگ رہتے ہیں جو ہماری صداقت کی دلیل ہیں لیکن سالانہ اجتماع سے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے نتائج حاصل ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ جو کوئی خدا کیلئے کھڑا ہوتا ہے خدا اسے ضائع نہیں ہونے دیتا۔اور انسان اور خدا تعالیٰ کے کاموں میں یہی فرق ہے کہ ایک انسان کوئی کام کرتا ہے اور بعض دفعہ اس میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔مگر اس کی کامیابی اس کی زندگی تک ہی محدود ہوتی ہے۔لیکن خدا جو کام کرتا ہے