خطبات محمود (جلد 4) — Page 482
خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۲ سال ۱۹۱۵ء خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو رحمت اور نعمت کے درجات ملے۔پس ہماری جماعت کو بھی ان دونوں باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئیے۔احمد یہ جماعتوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے جو چندہ دینے میں سب سے آگے ہے لیکن تبلیغ کرنے میں سست ہے۔میں نے ایک دفعہ اسی جماعت کے ایک دوست کو لکھا کہ آپ کی جماعت ذمیوں کی جماعت ہے کیونکہ ذمی ٹیکس ادا کر کے جہاد کی خدمت سے آزاد ہو جاتے تھے لیکن مسلمانوں کو زکوۃ اور چندوں کے علاوہ جانیں بھی خرچ کرنی پڑتی تھیں۔پس اس جماعت میں اسلامی رنگ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔یہ نقص ہماری جماعت کے ایک خاص حصہ میں پایا جاتا ہے۔لیکن خوب یادرکھنا چاہیئے کہ اگر ہم ایک نعمت کا شکر یہ ادا کرتے ہیں اور ایک دوسری نعمت کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو ہمارا شکر یہ نامکمل اور ناقص ہے۔ایسے شخص کی مثال اس شخص کی طرح ہوگی جو آدھا گر تہ پہنتا ہے۔آدھا گر تہ پہنے والا انسان اپنے سارے جسم کو کیونکر ڈھانپ سکتا ہے۔اس کا بدن تو ننگا ہی رہے گا۔الغرض میرے اس خطبہ سے یہ مراد ہے کہ اگر تم مال خرچ کرتے ہو تو اسی کو کافی نہ سمجھو بلکہ جان کو بھی خرچ کرو۔مال دینے والے یہ خیال نہ کریں کہ بس ہم نے مال دے دیا ، جان دینے کی ضرورت نہیں۔وہ اپنے آپ کو ذقی نہ بنائیں بلکہ اپنی جان کو خدا کیلئے لڑا ئیں۔جو مال دیں گے ان کے ویسے ہی ہے گناہ جھڑ جائیں گے اور جان دیں گے ان کے اسی قسم کے گناہ جھڑیں گے۔جو انعام خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر رکھے ہیں ان کا شکریہ ادا کریں اور خدمت دین کریں۔غرباء یہ نہ خیال کریں کہ ہم نے جان دے دی ہے، مال دینے کی ضرورت نہیں وہ مال دینے کی طرف متوجہ ہوں۔اگر ایک غریب کو خدا تعالیٰ ایک سیر دانے دیتا ہے تو اسے چاہیئے کہ اسی میں سے تھوڑا سا دے دے اس کا تھوڑا سا دینا بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک ہزار روپیہ کے برابر ہے۔ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب مغفور درس فرما رہے تھے تو اس قسم کی ایک آیت تھی۔میں نے اُسی وقت انصار اللہ کو لکھا کہ جب تم نے جان کو خدمت دین کے لئے دے دیا ہے تو مال کو بھی خدا تعالیٰ کیلئے خرچ کرو۔اس میں کیا شک ہے کہ جو احمدیت میں داخل ہوتا ہے وہ انصار اللہ میں شامل ہوتا ہے۔پس ہر ایک کو چاہئیے کہ اس وقت اپنی جان اور مال خرچ کرے۔اس وقت جان خرچ کرنے کے یہ معنے نہیں کہ ظاہری جنگیں کی جائیں تلوار کی جنگ دین کیلئے کرنی اب قطعا حرام ہے۔لہذا جو شخص اس زمانہ میں خدمت دین کیلئے جوش میں کفار پر تلوار اُٹھاتا ہے اس کی مثال اس شخص کی ہے جو خدمت دین کے جوش میں