خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 483

خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۳ سال ۱۹۱۵ء اپنے آپ کو آگ میں ڈال دے۔پس اس وقت جہاد تلوار سے جائز نہیں بلکہ امن کے ذرائع سے جہاد کرنا چاہئیے۔خدمت دین کا تمہارے دلوں میں جوش ہو تو لوگوں کی ہدایت کیلئے کوشش کرو۔صحابہ نے جب تک لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحمد رسُولُ الله کو چاروں کونوں تک نہیں پہنچادیا آرام نہیں لیا۔اسی طرح آخرین منهم کہنے والے کھڑے ہو جائیں اور حضرت مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) کی صداقت کو دنیا دوو۔کے سامنے ثابت کر دکھا ئیں اور دلائل سے تمام دنیا کو مغلوب کر لیں اور ان کو نیچا دکھا ئیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا موقع نکالا ہے کہ ہماری جماعت کے مخلصین جانی جہاد میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ بہت جلد چھپ کر شائع ہونے والا ہے۔عربی ٹیکسٹ کا ایک حصہ تو تیار ہو چکا ہے اور انگریزی پروف بھی تیار ہورہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے پہلے سیپارہ کیلئے روپیہ کا سامان اپنے فضل سے اپنے پاس سے ہی کر دیا ہے اور اس کیلئے کسی چندہ کی تحریک کی ضرورت ہمیں پیش نہیں آئی۔میرا خیال ہے کہ ایک سیپارہ جب فروخت ہو جائے تو اسی کی آمد سے دوسراسیپارہ چھاپ دیا جائے۔اس طرح جماعت پر بوجھ نہ پڑے گا۔جس کے سامنے ابھی اور بہت سے کام ہیں اور ترجمہ قرآن کریم پر جس قدر روپیہ خرچ ہوگا اس کا برداشت کرنا ان تمام تبلیغی اخراجات کے ہوتے ہوئے جو اس وقت ہماری جماعت کر رہی ہے مشکل معلوم ہوتا ہے۔اندازاً اڑھائی لاکھ روپیہ اس قرآن پر خرچ ہوگا صرف چھپوائی کا خرچ سوالاکھ روپیہ ہے۔پس یہی طریق بہتر ہے کہ ایک ایک سیپارہ کر کے اسے شائع کیا جائے اور اسی کی اشاعت میں ہمارے دوست جانی جہاد کا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اب تک جو کتب ہماری طرف سے شائع ہوئی ہیں وہ ہماری ہی جماعت کے لوگ خریدتے رہے ہیں۔لیکن اس طریق سے اس قدر فائدہ نہیں ہوتا جو اس طرح ہو سکتا ہے کہ لوگ ان کتب کو خریدیں۔کیونکہ جو کتاب ان لوگوں تک پہنچی ہی نہیں جن کیلئے لکھی گئی تھی تو ان کو نفع کیا ہے پہنچائے گی۔پس دنیا کو نفع پہنچانے کا یہی طریقہ ہے کہ اس تک صداقت پہنچائی جاوے۔اس کا ایک طریق تو مفت اشاعت ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کو مفت کتاب دی جائے پڑھتے نہیں۔پس یہ طریق درست نہیں۔دوسرا طریق یہ ہے کہ غیروں کے پاس کتا بیں قیمتا فروخت کی جائیں اس طرح یہ فائدہ ہوگا کہ جو لوگ قیمت دے کر کتاب لیں گے ان میں سے اکثر اسے پڑھیں گے