خطبات محمود (جلد 4) — Page 481
خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۱ سال ۱۹۱۵ مقرب بندے ہوتے ہیں وہ اپنے اموال اور اپنی جانوں دونوں نعمتوں کو خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں۔پس انسان میں جب تک یہ دونوں باتیں جمع نہ ہوں وہ کامل مجاہد نہیں بنتا۔صحابہ کرام کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان کی زندگی میں یہ نمونہ پاتے ہیں۔ہماری جماعت کے لوگ اموال خرج کرنے میں تو خدا کے فضل سے بہت حصہ لیتے ہیں لیکن اَنفُسِهِمْ کی طرف بہت کم توجہ ہے۔صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنا مال و جان خدا تعالیٰ کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیتے تھے اور جنگوں کے وقت بھی وہ سب سے آگے دکھائی دیتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اسی کوسب سے بہادر سمجھتے تھے جو نبی کریم صلی ایم کے پاس اور آپ کے اردگر در ہا کرتا تھا اور ہمیشہ آپ کے کے پاس حضرت ابوبکر رہتے تھے بات یہ ہے کہ دشمن ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ پہلے جرنیل کو مارا جائے اور اسی جگہ دشمن کے زیادہ حملے ہوتے ہیں اور وہیں اس کا زیادہ زور ہوتا ہے۔ان زبر دست حملوں کو روکنے کیلئے بڑی بہادری کی ضرورت ہوتی ہے اور جرنیل کی حفاظت کرنے والا اور اس کے اردگر درہنے والا ہی ہمیشہ بہادر سمجھا جاتا ہے ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عمر نے چاہا کہ ابوبکر سے بڑھ جائیں اور جس قدر مال ان کے پاس آیا تھا اس کا نصف حضرت نبی کریم صلی یتیم کے سامنے لا کر رکھ دیا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ بس اب میں ابوبکر سے بڑھ گیا ہوں۔لیکن جس وقت حضرت ابوبکر بھی جو کچھ گھر میں موجود تھا لے آئے تو نبی کریم نے عمرہ سے پوچھا۔عمر تو نے اپنے گھر میں اپنے اہل وعیال کیلئے کیا چھوڑا ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا۔یا رسول اللہ ! نصف گھر چھوڑ آیا ہوں اور نصف حضور کے پاس لے آیا ہوں۔ابوبکر سے پوچھا کہ تم کیا لائے ہو؟ اور گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا ہے۔تو آپ نے جواب دیا یا رسول اللہ ! جو کچھ گھر میں موجود تھا سب کچھ حضور کی خدمت میں حاضر ہے ۳۔ان دونوں روایتوں کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے مال کے انفاق میں دوسرے لوگوں پر فوقیت رکھتا تھا اپنی جان کے انفاق میں بھی سب سے آگے تھا۔الغرض ان لوگوں نے خدا کیلئے جان بھی خرچ کی ، مال بھی خرچ کیا، خدا کے راستے میں لڑے بھی۔وہ صرف اس بات کو کافی نہ سمجھتے تھے کہ ہم نے روپیہ خرچ کر دیا یا صرف لڑائی کو ہی کافی سمجھتے نہیں بلکہ وہ دونوں چیزوں کو خدا کیلئے خرچ کرنا ضروری سمجھتے تھے۔اسی لئے تو خدا تعالیٰ نے ان کو کامل مجاہد کہا اور اس آیت کے مصداق بنایا ہے۔یہی وہ بات تھی جس کے معت ابلہ میں