خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 376

خطبات محمود جلد ۴ (۷۳) کوشش کرو کہ تمہیں اعلیٰ درجہ کی موت نصیب ہو (فرموده ۲۵۔جون ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ پھر فرمایا:۔تمام انسانوں کی حالتیں مختلف تعلقات مختلف اعمال اور مختلف واقعات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ایک انسان کی جو حالت ہوتی ہے وہ دوسرے کی نہیں ہوتی اور جو دوسرے کی ہوتی ہے وہ تیسرے کی نہیں ہوتی کوئی بڑا تندرست اور قوی ہوتا ہے تو کوئی نہایت ضعیف اور بیمار ہوتا ہے، کوئی بڑا عالم اور واقف کار ہوتا ہے تو کوئی بالکل جاہل اور کو دن ہوتا ہے، کوئی استنباط اور ایجاد کی بڑی قابلیت رکھتا ہے تو کوئی واضح سے واضح بات کے سمجھانے پر بھی نہیں سمجھتا، کوئی دین کی طرف بہت توجہ رکھنے والا ہوتا ہے تو کوئی دین سے بالکل بے پرواہ، کوئی دنیا میں بہت ہی منہمک ہوتا ہے تو کوئی صبح کے کھانے کے بعد شام کے کھانے کی بھی فکر نہیں رکھتا۔غرض ہر ایک انسان کی حالت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اور مختلف حالات کے ماتحت بدلتی رہتی ہے۔ایک انسان ہوتا ہے اس کے خیالات ایک اور انسان سے جو دوسرے لوگوں سے تعلقات رکھتا ہے مختلف ہوتے ہیں جس طرح انسانوں کی ہر ایک چیز میں اختلاف ہے مثلاً علم میں صحت میں عزت میں ، آبرو میں، طاقت میں کمزوری میں، دولت میں غربت