خطبات محمود (جلد 4) — Page 276
خطبات محمود جلد ۴ کوئی درخواست دی ہے۔یہ کس نے کہا ہے کہ آپ نے کوئی درخواست بطلبی خطاب دی ہے۔خبر تو یہ ہے کہ آپ نے کوئی چٹھی اپنے خلیفہ مسیح تسلیم کئے جانے کے متعلق لکھی ہے۔آپ نے کسی ایسی چٹھی بھیجنے سے انکار نہیں کیا۔“ سال ۱۹۱۵ء اس نادان نے یہ نہیں سمجھا کہ گورنمنٹ سے یہ کہنا کہ مجھے خلیفہ اسی تسلیم کروا دو، خطاب نہیں تو اور کیا ہے؟ کیونکہ گورنمنٹ صرف نام ہی دے سکتی ہے لیکن اس کا کام نہیں دے سکتی۔چونکہ اس شخص کے دل میں گندے خیالات تھے اس لئے اس نے اپنی فطرت پر قیاس کر کے میری نسبت بھی کہہ دیا کہ میں نے پیچدار بات کر کے جھوٹ بولا ہے۔جیسا کہ میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں سنایا تھا کہ اس سے مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی۔میں نے اعلان میں لکھ دیا تھا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین اللہ تعالیٰ کی جھوٹوں پر لعنت ہو۔لیکن باوجود اس کے کہا گیا کہ میں نے اس خبر سے انکار نہیں کیا اور لوگوں کو دھوکا دیا ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ کیسا قادر ہے کہ ابھی اس بات کو یعنی ایک الزام کا ازالہ اشتہار کے ہمیں پہنچے پورا ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک دوست کو جواب آ گیا ہے کہ کسی نے کوئی ایسی درخواست گورنمنٹ کو نہیں بھیجی۔اس دوست نے اپنی چٹھی اور گورنمنٹ کے جواب کو بیجنیسہ شائع کر دیا ہے۔اس سے صاف طور پر معلوم ہو جائے گا کہ الزام کے قابل کون ہے اور یہ ہمارے لئے ثبوت ہے اس بات کا کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔جب کوئی ہمیں پکارتا ہے تو ہم اس کی دعا کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔لیکن فَلْيَسْتَجِيبُوالي وَلْيُؤْمِنُوابی۔شرط یہ ہے کہ ہماری فرمانبرداری اور اطاعت کی جائے۔مومن انسان کی زندگی کیسے سکھ اور آرام کی زندگی ہوتی ہے۔دنیا میں ایک ایسا جس کے گھر میں ڈاکٹر موجود ہو وہ بیماری کے وقت بہت آرام میں رہتا ہے۔ایک ایسا جس کے گھر کا پلیڈر اور بیرسٹر ہو، وہ کسی مقدمہ میں گرفتار ہونے کے وقت بہت سکھ پاتا ہے۔اور پھر ایک ایسا شخص جس کے رشتہ دار دولت مند اور معزز ہوں ، وہ افلاس اور تکلیف کے وقت بہت مدد حاصل کرتا ہے۔تاہم پھر بھی کوئی انسان دنیا کی تمام نعمتیں اپنے گھر مہیا نہیں کر سکتا مگر وہی شخص جو اِذا دَعَانِ میں شامل ہو۔یعنی خدا کو اپنی ضرورتوں اور تکلیفوں کے