خطبات محمود (جلد 4) — Page 277
خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۷ سال ۱۹۱۵ء وقت پکارے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی طبیب اور ڈاکٹر نہیں ہے، اللہ تعالی سے بڑھ کر کوئی وکیل اور پلیڈر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی دولت مند اور غنی اور حافظ و ناصر نہیں ہے۔وہ انسان جس کے گھر میں تمام نعمتیں جمع ہو سکتی ہیں وہ وہی ہوتا ہے جو اِذَا دَعَانِ میں شرکت اختیار کرتا ہے اس کو پھر کسی چیز کی پرواہ نہیں رہتی اور کوئی غم کوئی فکر اور کوئی دکھ نہیں رہتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو فرماتا ہے کہ اگر تمہیں کوئی دکھ کوئی تکلیف ہو تو اس کا علاج مجھ سے چاہو اور اس کی دوا مجھ سے مانگو، ہم تمہیں دیں گے۔سو ہم نے مانگا اور خدا نے ہمیں دے دیا۔ہماری نظر تو چالیس دنوں پر تھی لیکن خدا تعالیٰ نے چارہی دن میں ہماری دعا کو قبول فرما لیا۔کیونکہ گورنمنٹ کا جواب ۱۶۔فروری کو وہاں سے چلا ہے اور ۱۹ کو یہاں پہنچ گیا ہے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی ایک نیکی دس کے برابر ہوتی ہے۔سوخدا تعالیٰ نے ہمارے ایک دن کو دس دن کے برابر کر دیا۔اور چار ہی دن کے اندر خدا تعالیٰ نے ہماری بریت کر دی۔اب ہمارا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں اور اس کے حکموں کو ما نیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کے حکموں کو مانا ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔جس کا خدا ہو گیا اس کو اور کسی کی پرواہ نہیں ہے۔اور جس کا کوئی نہیں اس کا خدا ہے۔پس تم لوگ دعاؤں میں لگے رہو اور اس کے تمام حکموں اور ارشادوں کی دل و جان سے تعمیل کرو۔اللہ تعالیٰ ہماری سب جماعت کو سچے اور سیدھے راستہ پر چلنے کی توفیق دے اور ہماری ہر راحت اور رنج میں ہمارے ساتھ ہو۔البقرة: ١٨٧ الفضل ۲۵ فروری ۱۹۱۵ء)