خطبات محمود (جلد 4) — Page 275
خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۵ سال ۱۹۱۵ء کرتے ہو۔تو آؤ ہم بھی تمہیں کچھ بتا ئیں کہ جب کسی بندہ کوکوئی مصیبت پیش آجائے، کوئی دکھ پہنچے، کوئی رنج والم ہو اور وہ میری نسبت سوال کرے اور کہے کہ وہ خدا جو مشکلات کو دور کیا کرتا ہے، مصائب اور آلام کو ہٹاتا ہے، کہاں ہے؟ اور وہ خدا جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے، آج کہاں ہے کہ میری مشکلات کو بھی دور کرے؟ فرمایا اس کو کہو کہ تمہیں خدا کے متعلق یہ پوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ کہاں ہے۔وہ تو تمہارے پاس اور بہت ہی قریب موجود ہے اور ہر وقت ہر ایک انسان کے پاس موجود رہتا ہے، تم سے دور نہیں ہے۔جب کوئی پکارنے والا دکھ اور درد کی حالت میں پکارتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں اور اس کے مصائب اور آلام کو دور کرتا ہوں۔ہاں اب یہ چاہیئے کہ جس طرح دنیا میں ہر ایک محسن کی اطاعت کی جاتی ہے، اسی طرح میری بھی اطاعت کریں۔جب انسان اپنی ایک دو حاجتوں کے پورا کرنے والے اور بعض ضرورتوں میں کام آنے والے لوگوں کا ہمیشہ فرمانبردار ہو جاتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خدا جس کے احسانوں اور انعاموں کو انسان گنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا اس کی فرمانبرداری اور اطاعت نہ کرے اس فرمانبرداری کے نتیجہ میں اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ تمہارا ہی اس میں بھی فائدہ ہے اور وہ یہ کہ تم راہ راست کو پا لو گے اور ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے۔یہ کیسی سچی بات ہے اور کیسا سچا کلام ہے۔واقعی اللہ تعالیٰ کے حضور جو پکارتا ہے ، خدا اس کی دعا کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔تم لوگوں نے تو ابھی یہ نظارہ دیکھا ہے۔پچھلے جمعہ میں نے ایک اشتہار دیکھا تھا جس میں لکھا تھا ”میاں صاحب نے گورنمنٹ سے اپنے خلیفہ المسیح تسلیم کئے جانے کی استدعا کی ہے اور گورنمنٹ نے بالمقابل مذہبی معاملات میں مداخلت سے انکار کیا ہے۔یہ خبر ہم نے وثوق کے ساتھ سنی اور جو طریق عمل میاں صاحب نے خلافت کے شوق میں اختیار کر رکھا ہے اس سے اس خبر پر یقین کر لینا ہمارے لئے بالکل ضروری تھا۔پھر اشتہار لکھنے والے نے اس خبر کی صداقت پر یہ دلیل دی تھی کہ :۔”میاں صاحب نے اس اشتہار میں نہایت عظمندی سے کام لیا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ مجھے گورنمنٹ سے کسی خطاب کی ضرورت نہیں نہ میں نے