خطبات محمود (جلد 4) — Page 455
خطبات محمود جلد ۴ ۴۵۵ سال ۱۹۱۵ء سے اپنے کانوں سنا اور اس کی تحریروں میں پڑھا اس سے ہمیں ہرگز ہرگز انکار نہیں۔میں نے تو قسم کھالی ہے اور باقی ہماری جماعت کے لوگ قسم کھانے کیلئے تیار ہیں لیکن وہ یا درکھیں کہ یہ تلوار ان ہی کی گردنوں پر چلے گی۔میں نے رویا میں دو آدمیوں کی نسبت کہا ہے لَعْنَتُ اللهِ عَلَی الْكَاذِبِینَ۔تو انہوں نے کہا ہے۔آمین۔وہ دونوں تو تباہ ہور ہے ہیں۔میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے جس سے مجھے بہت سرور ہوا۔رات کو میں نے اٹھ کر سب گھر والوں کو جگا دیا کہ نفل پڑھو اور اس کے بعد میں بھی نہیں سویا۔وہ خواب یہ ہے کہ مجھ سے حضرت مسیح موعود نے پوچھا کہ تم نے نبوت کے متعلق کیا دلائل دیئے اور لوگ سن کر کیا کہتے ہیں چڑتے تو نہیں۔میں نے کہا کہ لوگ اچھی طرح سنتے ہیں اور دلائل بھی بتائے جو آپ نے بہت پسند کئے اور خوش ہوئے۔پھر میں نے ان لوگوں کی نسبت بتایا کہ کس طرح مخالفت کرتے ہیں۔یہی باتیں کرتے ہوئے شیخ رحمت اللہ صاحب آئے اور انہوں نے آکر مجھ سے مصافحہ کیا۔میں نے ان کو کہا آپ بھی آج ہی حضرت مسیح موعود کو دیکھ کر ملنے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ بھی تو آج ہی ملے ہیں۔اس گفتگو پر حضرت صاحب نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ مصافحہ کیلئے بڑھایا اور کہا کہ شیخ صاحب ہیں لیکن شیخ رحمت اللہ صاحب نے اپنا ہاتھ پیچھے کو ہٹالیا اور مصافحہ نہیں کیا اس پر منہ موڑ لیا۔اور پھر حضرت صاحب نے اشارہ فرمایا کہ اس کو نکال دو۔یہ دیکھ کر مرزا خدا بخش صاحب نے شیخ صاحب کو کہا کہ تم پر بڑا ظلم ہوا ہے اور ان سے لپٹ گئے اس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہیں تم بھی میرے مریدوں میں ہو۔پھر دونوں کو نکالنے کا اشارہ فرمایا۔جس پر دونوں کو پکڑ کر نکال دیا گیا۔پھر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود ایک مکان میں ہیں اور اس جگہ فوجی پہرہ ہے اور بینڈ باجہ بج رہا ہے۔بڑی شان و شوکت اور رونق ہے۔میں نے آپ سے کہا حضور شروع میں تو مجھے بڑا فکر تھا کہ یہ بڑے بڑے آدمی نکل گئے ہیں اب کیا ہوگا۔لیکن خدا تعالیٰ نے خود ہی سب کام کر دیا۔اور میری کیا حیثیت ہے میرے سب کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے اور اس پر سخت رقت طاری ہوئی اور آنکھ کھل گئی۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم میں کوئی کمزوری نہیں اور ہم ملائکہ کی طرح ہیں۔مگر میں یہ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق ہمارا عقیدہ حق ہے اور حضرت صاحب نبی تھے اور ایسے نبی تھے جیسے پہلے ہوئے ہیں ہاں آپ براہ راست