خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 456

خطبات محمود جلد ۴ ۴۵۶ سال ۱۹۱۵ نبی نہیں اور آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔آپ امتی نبی ہیں یعنی نبی تو ہیں لیکن آپ کو نبوت ایک نبی کی اتباع میں ملی ہے اس نبوت سے ہم کسی وقت بھی منکر نہیں نہ پہلے تھے اور نہ اب ہیں۔خواب میں میں نے نبوت کے متعلق جو دلائل حضرت مسیح موعود کو سنائے ان میں سے ایک آیت سے میں نے یہ استنباط کیا وہ آیت یاد نہیں رہی ) کہ ہم نبی بھیجتے رہتے ہیں۔لوگ ان کا مقابلہ کریں یا نہ کریں، انہیں مانیں یا نہ مانیں۔اب بھی نبی ضرور آئیں گے پس من جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا صداقت آ گئی اور باطل نی بھاگ گیا۔باطل ہمیشہ ہلاک اور تباہ ہی ہوا کرتا ہے۔میں تو اس لئے بھی تیار ہوں کہ آؤ وہی کریں جو نجران کے ی سیحیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔پیغام میں کفر کا فتویٰ تو وہ ہماری نسبت دے ہی چکے ہیں اگر انہیں جرات ہے تو آئیں فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ تبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ 1 بڑی آسان بات ہے۔قسم ہی نہیں بلکہ مباہلہ کر لیں۔جب کفر کا فتوی دے چکے ہیں تو انہیں کوئی عذر بھی نہیں ہوسکتا۔اور جب وہ مجھے کافر سمجھتے ہیں تو میر۔لئے کیا روک ہے کہ میں ان سے مباہلہ نہ کروں مجھے جو کا فرقرار دیتے ہیں مجھے ان سے مباہلہ جائز ہے۔وہ کہتے ہے ہیں کہ ہم قسم سے بھاگتے ہیں۔میں قسم سے نہیں بھاگتا بلکہ مباہلہ کیلئے تیار ہوں۔کیونکہ یہاں اس بات پر جھگڑا نہیں کہ میں ولی ہوں یا نہیں، میں نیک ہوں یا نہیں بلکہ یہ کہ مسیح موعود خدا کا سچا نبی ہے یا نہیں۔میں باوجود اپنی کمزوریوں کے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے ہی کامیاب کرے گا اور میں ان کی بزدلیوں سے واقف ہوں اور ہے خوب جانتا ہوں کہ وہ مقابلہ پر کبھی نہیں آئیں گے۔بلکہ خرگوشوں کی طرح میرے مقابلہ سے بھاگ جائیں گے اور بہانہ بنا کر اس موت کے پیالہ کو ٹالنا چاہیں گے۔ل بنی اسرآئیل: ۸۱ تا ۸۵ تصانیف سید نا حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفہ المسح الثانی بخاری کتاب التعبير باب المبشّرات الفضل ۲۳ ستمبر ۱۹۱۵ء) هي الكهف:۵۷ الجن: ۲۸،۲۷ ال عمران: ۳۲ البقرة : ١٣٠ و یونس: ۶۵ ال عمران: ۲۶