خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 391

خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۱ سال ۱۹۱۵ء کرنے کیلئے حضرت صاحب کی وفات کے بعد مولوی صاحب کو آخری دم تک ایک کتاب بھی لکھنے کی تحریک نہ کی۔بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کے دم کے ساتھ یہ سلسلہ کھڑا ہے ان کے بعد کچھ نہیں رہے گا۔پھر جب ان کی یہ بات پوری نہ ہوئی تو کہنے لگے کہ ہم جو کہتے تھے کہ مرزا صاحب کو مولوی صاحب کتاب ہیں وغیرہ لکھ کر دیتے ہیں اب چونکہ مولوی صاحب ہیں اس لئے سلسلہ چل رہا ہے اور ہماری اس وقت کی بات کی تائید ہورہی ہے البتہ جب مولوی صاحب نہ رہے تو پھر یہ سلسلہ نہیں رہے گا۔بعض یہ کہتے تھے کہ مولوی صاحب عربی دان ہیں انہیں سلسلہ کے قائم رکھنے کا کیا پتہ ہے اصل میں ایم۔اے ، ڈاکٹر، پلیڈرا سے چلا رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کی کیسی غیرت ہے کہ ایک ہی وقت میں دونوں کو علیحدہ کر دیا۔ایک طرف اگر مولوی صاحب کو وفات دی تو دوسری طرف ان لوگوں کو علیحدہ کر کے بتادیا کہ دیکھو ہمارا سلسلہ کسی انسانی سہارے پر نہیں چل رہا بلکہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔پھر یہ بھی نہیں کیا کہ اب سلسلہ کی باگ کسی بڑے عالم فاضل اور تجربہ کار کے ہاتھ میں دے دی ہو بلکہ اس کے ہاتھ میں دی ہے جس کے متعلق مشہور کیا گیا تھا کہ نکما ، جوش میں آنے والا اور لڑنے جھگڑنے والا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ بتایا کہ تمہارے خیال میں جو سب۔زیادہ کمزور اور نکلتا ہے ہم اپنا کام اُسی سے لے لیں گے۔اس میں کیا شک ہے کہ مجھے نہ اپنے علم پر ناز ہے نہ تجربہ کاری کا مدعی ہوں اور نہ مجھے کسی اور بات کا گھمنڈ ہے مگر خدا تعالیٰ میرے سپرد یہ کام کر کے دکھانا چاہتا ہے کہ جس کو تم نا لائق سمجھتے ہو میں اسی سے کام لوں گا۔پس جب خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا تو اور کسی کی کیا طاقت تھی کہ اس میں حارج ہوتا۔ایک دن وہ بھی تھا کہ منکرین کی طرف سے اعلان شائع ہوا تھا کہ جماعت کا بہت بڑا حصہ ہمارے ساتھ ہے اور اس خوشی میں پھولے نہ سماتے تھے۔پھر یہ بھی کہا کہ قادیان مشن کمپاؤنڈ بن جائے گا لیکن ایک دن یہ ہے کہ خدا نے جماعت کے کثیر حصہ کو پکڑ کر جھکا دیا ہے اور قادیان میں اشاعت اسلام کا ایسا کام ہو رہا ہے کہ تمام ہندوستان چھوڑ تمام دنیا میں بھی کسی جگہ نہیں ہورہا۔اس سے اللہ تعالیٰ نے یہ دکھا دیا ہے کہ یہ میرا اپنا کام ہے۔ایک طرف وہ انسان جو دینی علوم کے جاننے کی نظر میں سلسلہ کا سہارا سمجھا جاتا تھا اسکو اٹھا لیا۔دوسری طرف دنیاوی علوم والوں کو علیحدہ کر دیا اور تیسرے اُس انسان کے ہاتھ میں جہاز کی پتوار دے دی جسے کسی قابل نہ سمجھا جاتا تھا۔