خطبات محمود (جلد 4) — Page 390
خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۰ سال ۱۹۱۵ء تم کو اس نے میرا حکم سنایا تھا کہ اندر آنا بند ہے۔اُس نے کہا ہاں۔زار نے دربان کو کہا۔ٹالسٹائے میں تمہیں فلاں عہدہ دیتا ہوں اس کو اسی طرح مارو جس طرح اس نے تمہیں مارا ہے (اُس وقت روس میں یہ قاعدہ تھا ایک ہی حیثیت کے آدمی اپنے مخالف کو سزا دے سکتے تھے ) ڈیوک نے کہا کہ میں نواب ہوں۔زار نے کہا۔ٹالسٹائے میں تمہیں کا ؤنٹ بناتا ہوں اسے مارو۔اس طرح اُس نے اسی وقت دربان سے اسے پٹوایا۔اس دربان کی تو کوئی حیثیت نہ تھی لیکن سوال یہ تھا کہ اس کو کھڑا کس نے کیا تھا۔کھڑا بادشاہ نے کیا تھا اس لئے اس کی حکم عدولی اس قدر سزا کا موجب ہوئی۔کفر و اسلام کے مسئلہ میں بھی نادان یہ نہیں سمجھتا کہ بحث کس بات پر ہے دیکھنا تو یہ ہے کہ معاملہ کس کا ہے۔مسیح موعود تو ایک بہت بڑا انسان ہے اگر کوئی چھوٹا بھی ہو تو اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہئیے کہ یہ کس کی طرف سے بول رہا ہے۔آنحضرت سلی یا پیام فرماتے ہیں تو كَانَ عِيسَى وَمُوسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعی ۸ کہ اگر عیسی اور موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کیلئے ضروری تھا کہ مجھ پر ایمان لاتے اور میرا کلام مانتے ورنہ کافر بنتے۔تو یہاں یہ سوال نہیں کہ مرزا صاحب کی کیا حیثیت ہے؟ ہم بدرجہ تنزل یہ بھی مان لیتے ہیں کہ مسیح موعود کی کوئی حیثیت نہ تھی مگر یہ تو منکرین خلافت بھی مانتے ہیں کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آئے تھے پس چونکہ ان کو بھیجنے والا اور آنحضرت سلام ایم کو بھیجنے والا ایک ہی ہے اس میں کچھ فرق نہیں اس لئے ہے خدا تعالیٰ کا حکم جس طرح آنحضرت سال الیتیم کے ماننے کے لئے تھا اسی طرح حضرت مسیح موعود کیلئے ہے۔جو نہیں مانتا وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا انکار کرتا ہے لیکن یہ بات وہ یاد رکھے کہ خدائی احکام کا کوئی معت ابلہ نہیں کرتے سکتا۔ہمارے سلسلہ کے مقابلہ میں لوگ بڑے بڑے زور لگاتے اور کہتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی جماعت ہے کر رہی ہے کیا سکتی ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی شکاری پانچ سو مرغابیوں میں سے دس ہیں مارلے تو اسے کامیاب کہا جائے گا نہ کہ نا کامیاب کیونکہ وہ غالب رہا ہے اور کچھ چھین کر ہی لے گیا ہے۔اسی طرح ساری دنیا کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود کھڑے ہوئے اور دنیا نے مقابلہ کرنے میں بھی کوئی کمی نہ کی لیکن آپ ہی کچھ چھین کر لے پھر لوگوں کو یہ شک بھت کہ مرزا صاحب آپ تو کچھ نہیں جانتے مولوی نورالدین صاحب انہیں کت ہیں لکھ لکھ کر دیتے ہیں اور وہ شائع کرتے ہیں۔لیکن خدا نے اس بات کو غلط ثابت