خطبات محمود (جلد 4) — Page 392
خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۲ سال ۱۹۱۵ء پس اگر کوئی میری کمزوریوں کی طرف نظر کر کے اور اپنے علم کے گھمنڈ میں آکر مخالفت پر کھڑا ہوتا ہے تو یہ اس کی نادانی ہے۔اس کی نظر مجھ پر نہیں پڑنی چاہئیے بلکہ اس پر پڑنی چاہئیے جس کا یہ سلسلہ ہے اور جس نے مجھے کھڑا کیا ہے کیونکہ اصل میں وہی کام کر رہا ہے۔کیا ابھی تک کسی کو اس صداقت کے قبول کرنے میں انکار ہے کہ منکرین خلافت نے میری مخالفت میں بڑے زور لگائے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو نا کام ہی کیا اور جماعت میں ایسا جوش پیدا کر دیا کہ گویا نئے سرے سے بنی ہے اور یہ جوش گھٹنے کا نہیں کیونکہ یہ خدا کا سلسلہ ہے انسان مر جائیں گے لیکن خدا پر کوئی تغیر نہیں آسکتا۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ، جب تک احمدی احمدی ہیں یہ جماعت بڑھتی ہی رہے گی۔بڑی بڑی طاقتیں داخل ہوں گی اور وہ وقت عنقریب آئے گا کہ بہت سی بلند گردنیں جھک جائیں گی اور وہ لوگ جو آج اسلام پر گندے اور بیہودہ حملے کرتے ہیں اسی کے حلقہ بگوش ہوں گے۔ایک دفعہ مجھے دکھایا گیا تھا کہ آسمان پرستاروں سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ لکھا ہوا ہے۔پس اسلام ترقی کرے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی کرے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا قتل کرنے والوں نے تو حضرت عمررؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، ایسے جلیل القدر انسانوں کو بھی قتل کر دیا تھا لیکن اس طرح وہ اسلام کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے۔اُس وقت اگر چالیس لاکھ کے قریب مسلمان تھے تو بعد میں کئی کروڑ تک ہو گئے کیونکہ خدا تعالیٰ جس کی طرف سے یہ مذہب ہے وہ ہمیشہ سے زندہ اور کی ہے پس اسی خدا نے ہماری جماعت کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ جو اس کو ہٹانا چاہے گا وہ خدا سے مقابلہ کرے گا۔اس لئے ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ کا بہت بہت شکر کرنا چاہیئے۔لا ہور ایک سرحد ہے اور ہمارے مخالف لوگوں کا مرکز اور پنجاب کا دارالخلافہ، یہاں کے احمدیوں کو بہت چوکس رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں تاکید فرماتا ہے کہ سرحد کو مضبوط رکھنا چاہیئے۔مسلمانوں کی حکومتوں کے تباہ ہونے کی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ انہوں نے سرحدوں کو مضبوط نہ کیا۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ رابطو انا یعنی سرحدوں پر گھوڑے باندھے رکھو۔لاہور بھی سرحد ہے یہاں بھی اپنے مخالفوں کے جواب ینے کے لئے احمدیوں کو ہر وقت کمر بستہ رہنا چاہئیے۔سرحدی اور پہرہ دار فوجیوں کو سونے اور آرام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ان کا کام ہر وقت چوکس رہنا ہوتا ہے اگر یہ غفلت کریں تو دوسروں کی نسبت زیادہ سزا۔