خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 328

خطبات محمود جلد ۴ ۳۲۸ سال ۱۹۱۵ء اس کو نکلوا دو لیکن وہ سالوں سال اسی امید میں نہیں نکلواتے کہ شاید اچھی ہو جائے لیکن دشمن کی تو صحیح وسالم آنکھ کو نہایت بے دردی سے پتھر مار کر پھوڑ دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو لوگ کیسے نادان اور کم عقل ہیں۔کہتے ہیں کہ اللہ میں رحم نہیں ہے اور اگر کوئی اس کا گناہ کرے تو وہ اسے معاف نہیں کرتا بلکہ سزا ہی دیتا ہے۔لیکن ان لوگوں کا اپنا یہ حال ہے کہ اگر ان کی اپنی کسی چیز میں نقص پیدا ہو جائے تو اس کے بچانے میں پورا پورا زور لگاتے ہیں اور اللہ کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو جب ان میں کسی قسم کا نقص پیدا ہوجاتا ہے تو ہلاک ہی کر دیتا ہے۔یہ ان کی بہت بڑی حماقت ہے کیا انہیں معلوم نہیں کہ یہ تمام اشیاء جو زمین و آسمان میں ہیں کس کی ہیں یہ تو سب کچھ خدا کا ہی ہے۔جب یہ سب کچھ خدا کا ہی ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان کو تباہ کر دے سوائے ایسی صورت کے کہ اس کے سوا اصلاح نہ ہوتی ہو۔جس طرح ایک انسان کو معلوم ہو کہ اگر میں اپنی بیمار آنکھ کو نہ نکلواؤں گا تو دوسری بھی اس کی وجہ سے بے کار ہو جائے گی اس وقت وہ اسے نکلوا دیتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ كتب على نفسه الرحمة جہاں تک ہو سکتا ہے ہم رحم ہی کرتے ہیں اور سزا اس وقت دیتے ہیں جبکہ رحم سے اصلاح نہ ہو سکے۔اس مسئلہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جہاں عیسائیوں کو ٹھوکر لگی ہے وہاں مسلمانوں نے بھی دھوکا کھایا ہے۔آج کل مسلمانوں میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں کہ جب کسی کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ کہتا ہے کہ اے خدا! یہ تکلیف دور ہو جائے اور اس کی بجائے دوسری آجائے مثلاً اگر کسی کا بیٹا بیمار ہوتو وہ کہتا ہے الہی! میرا بیٹا تندرست ہو جائے اور میں اس کی بجائے بیمار ہو جاؤں یا اس کی بجائے میں مر جاؤں۔ایسے لوگ گویا یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کسی کو چھوڑ تو سکتا نہیں اس لئے ایک کی بجائے دوسرے کو معاوضہ میں دے کر رہائی چاہتے ہیں لیکن یہ بہت بڑی کمزوری ایمان کا نتیجہ ہے۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی صفات پر غور نہیں کرتے کہ وہ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرّحمة ہے۔انسان کو چاہیئے کہ خدا تعالیٰ سے رحمت کی دعا مانگے کیونکہ اس کو طاقت ہے کہ اگر بیٹا بیار ہو اور باپ دعا کرے تو دونوں کو بچالے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی صفات کی بے ادبی ہے کہ کہا جائے کہ یہ لے لو اور وہ دے دو یا یہ پکڑ لو اور وہ چھوڑ دو۔ایسا کہنا مومن کی شان سے بہت بعید ہے۔پس تم اپنی دعاؤں میں ہمیشہ اس