خطبات محمود (جلد 4) — Page 329
خطبات محمود جلد ۴ ۳۲۹ سال ۱۹۱۵ء بات کو یاد رکھو کہ تم کبھی یہ نہ کہنا کہ فلاں بات ہو جائے اور اس کی بجائے فلاں نہ ہو بلکہ تم یہ کہو کہ الہی ! دونوں ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ سے انسان جتنا مانگتا جائے اتنا ہی وہ دیتا جاتا ہے اور اس کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں آپ سکتی۔ایک چیز کے لینے کی بجائے دوسری چیز وہ لیا کرتے ہیں جنہیں اپنے خزانہ اور ذخیرہ کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہوا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے نقائص سے پاک ہے۔اس لئے مومن کو ایسی دعاؤں سے احتراز کرنا چاہئیے۔اور ہر وقت خدا سے خیر ہی مانگنی چاہئیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش کے خزانے نہ کبھی خالی ہو سکتے ہیں اور نہ ان میں کمی آسکتی ہے۔پس اگر وہ ایک چیز دے سکتا ہے اور ایک تکلیف دور کر سکتا ہے تو دوسری چیز بھی دے سکتا ہے اور دوسری تکلیف بھی ہٹا سکتا ہے اور اس کو کسی بدلہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تم کو اس بات کی سمجھ عطا فرمائے تا کہ تمہاری دعائیں اس کے ادب کو ملحوظ رکھتی ہوئی ہوں اور اس رنگ میں ہوں جو خدا تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔آمین۔ل الانعام : ۱۳ (الفضل ۳۰۔اپریل ۱۹۱۵ء)