خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 327

خطبات محمود جلد ۴ ۳۲۷ سال ۱۹۱۵ء ہوسکتی ہو اور انتظام سے اصلاح ہوتی ہو۔تب خدا تعالیٰ سزا دے گا اگر کوئی یہ سوال کرے کہ کیوں خدا تعالیٰ ایسا کرتا ہے کہ جب تک عفو اور درگزر سے اصلاح ہوتی ہے اس وقت تک اپنے مجرموں سے انتقام نہیں لیتا حالانکہ ہم انسانوں کو دیکھتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنے دشمن سے انتقام لینا ہو تو گو اس کے اس دشمن کی اصلاح رحم میں ہی ہوتی ہو تو بھی اس انسان کا دل اسی وقت ٹھنڈا ہوتا ہے جب وہ انتقام لے لیتا ہے اور دنیا میں یہ عام رواج ہے کہ لوگ دکھ کا بدلہ دکھ اور تکلیف کا بدلہ تکلیف دینا ہی پسند کرتے ہیں اور اگر نرمی سے کہیں کام چلتا ہو تو بھی اس سے کام نہیں لیتے۔پھر خدا تعالیٰ کیوں ایسا کرتا ہے اور تمام انسان جب خدا تعالیٰ کی مخلوق اور مملوک ہو کر اس کے احکام کو توڑتے ہیں تو خدا تعالیٰ انہیں سزا کیوں نہیں دیتا بلکہ جہاں تک ہو سکے رحم ہی کرتا ہے۔اس کی وجہ خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے قُلْ لِمَنْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلهِ۔اے رسول! ان لوگوں کو کہ دو! بتاؤ یہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے۔یہ تو جواب دیں گے یا نہ دیں گے اس کا جواب تم ہی ہے یہ دے دو کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔اور جب یہ اللہ کا ہے، اللہ ان کوتباہ کرنا پسند نہیں کرتا۔جس طرح کوئی اپنی چیز کو خراب نہیں کرنا چاہتا اور جہاں تک اس کی طاقت اور ہمت میں ہوتا ہے یہی چاہتا ہے کہ یہ چیز درست ہی ہو جائے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کی ہر ایک چیز بغیر سزا پانے کے ہی درست ہو جائے۔۔دیکھو کسی کا بیٹا یا بھائی قصور کرتا ہے تو وہ یہی چاہتا ہے کہ اس کو نرمی سے ہی سمجھا دیا جائے اور اس پر سختی نہ کی جائے۔لیکن جہاں انسان انتقام لینے کیلئے آمادہ ہوتا ہے وہ جگہ غیر ہوتی ہے جس کے نقصان اٹھانے سے اس کا اپنا حرج نہیں ہوتا جس کے مرنے سے اس کا کچھ نقصان نہیں ہوتا اور جس کی عزت و آبرو کے برباد ہونے سے اسے کچھ محسوس نہیں ہوتا مگر جہاں اس کی اپنی چیز ہو اس کو نقصان پہنچانے سے پہلو تہی کرے گا مثلاً اگر ایک مکان کو آگ لگ جائے تو اس کے بجھانے کے دو طریق ہی ہیں۔اول یہ کہ آگ پر پانی ڈال دیا جائے اور دوسرا یہ کہ اس نے مکان کی دیوار میں گرادی جائیں۔اگر کسی کا اپنا مکان ہو تو یہی کوشش کرے گا کہ جس طرح بھی ہو پانی ڈال کر آگ بجھائی جائے اور مکان نہ گرایا جائے اور اگر کسی کے دشمن کے گھر کو آگ لگی ہو تو اس کے متعلق یہی کہے گا کہ بہت جلدی مکان کو گرا دیا جائے تاکہ دوسرے گھروں کو آگ نہ لگے۔اسی طرح کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی آنکھ کے بیمار ہو جانے کی وجہ سے ڈاکٹر انہیں مشورہ دیتا ہے کہ