خطبات محمود (جلد 4) — Page 157
خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۷ سال ۱۹۱۴ء ہے۔پھر آپ باہر تشریف لائے اور صحابہ کو فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ اندر بیٹھ کر ہی دشمن کا مقابلہ کریں۔نوجوان صحابہ نے یہ بات نہ مانی اور عرض کیا ہم باہر نکل کر لڑیں گے کیونکہ لوگ ہمیں بزدل کہیں گے۔آخر آپ صحابہ کے اصرار پر باہر نکلے۔پھر صحابہ کو خیال آیا کہ ہم نے آپ کو مجبور کیا ہے۔ایسا نہ ہو اس کا کوئی بد نتیجہ نکلے۔پھر آپس میں مشورہ کر کے نبی کریم صلی یا پی ایم کے حضور عرض کیا کہ ہم نے حضور پر بہت زور دیا ہے۔حضور اب واپس تشریف لے چلیں۔آپ نے فرمایا نبی ہتھیار باندھ کر نہیں رکھا کرتے بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے صحابہ فتح ہونے کے بعد ذبح ( شہید ) ہوئے اور نبی کریم صلی یا یتیم کے رشتہ دار بھی شہید ہوئے۔اگر شہر میں رہتے تو تیسری بات بھی پوری ہو جاتی۔غرض بہت سوال پیش کرنے دکھ کا موجب ہوتے ہیں۔جو شریعت کا حکم ہو یا جو نبی حکم دے وہ کرو۔زائد بات مت طلب کرو کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں۔نبیکریم ملی ایم کا معمول تھا کہ آپ مانگ کر کسی عہدہ کو لینے والے کے سپر د کوئی عہدہ نہ کرتے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اسے کبھی اس کو پورا کرنے کی توفیق نہیں ملے گی ، آپ تو فطرت انسانی کا بڑا مطالعہ رکھنے والے تھے۔خدا تعالیٰ جسے آسانی دے وہ خود اپنے لئے تنگی کیوں اختیار کرے۔دینے والا دیتا ہے، تم اس کو لینے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے سفر میں روزے نہ رکھنے اور نماز قصر کرنے کی اجازت دی۔لیکن انہوں نے نے روزے رکھے اور نماز قصر نہ کی۔بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو مشکلات پڑگئیں اور سرے سے روزے اور نماز کو ہی ترک کر دیا۔نہ گھر میں نہ باہر نماز پڑھی نہ روزے رکھے۔یہ اجازت پر عمل نہ کرنے اور خودساختہ شرائط پر چلنے کا نتیجہ ہے۔بے حیا کا کام ہوتا ہے کہ جو کام (خواہ وہ کیسا ہی اچھا ہو ) وہ نہ کرے، اس کو کہ دیتا ہے کہ لغو ہے اور اس کے نہ کرنے پر پھر فخر کرتا ہے۔زائد بات کے لئے کبھی سوال مت کرو ورنہ یہود جیسی حالت ہو جائے گی۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ان کے انشاء الله " کہنے کا نتیجہ تھا کہ ان کو تو فیق ملی ورنہ انہیں بالکل توفیق نہ ملتی۔تو تم یاد رکھو کہ دین کا کام ہو یا دنیا کا ہوجتنا آسانی سے کرسکو کرو۔شریعت کے حکم سے زائد اپنے او پر مت ڈالو۔باہر ایک جگہ سے رپورٹ آئی چندوں کے متعلق کہ یہاں کے لوگ کیا کرتے ہیں کہ چندے بہت بہت لکھواتے ہیں۔پھر ایک دو ماہ ادا کیا اور بس۔جب چھ ماہ گزر گئے تو ان کو اکٹھا کر کے کہا گیا۔تو کہا اچھا۔پچھلا تو جانے دو اور اب آئندہ کیلئے لکھواؤ۔