خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 158

خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۸ سال ۱۹۱۴ء جب لکھوانے کا وقت آیا۔تو کہا بھئی خوب بڑے بڑے چندے لکھواؤ۔تھوڑے نہیں لکھوانے چاہئیں۔لیکن ادائیگی کے وقت پھر وہی حالت۔حضرت عائشہ نبی کریم سی ایم کی نسبت روایت کرتی ہیں کہ آپ کو ہمیشہ وہی بات پسند تھی جو تھوڑی ہو لیکن اس میں دوام ہو ۴ تو تم جو کام اپنے ذمہ لو اتنالو جو آسانی سے کر سکو اور اس میں دوام ہو۔زیادہ کرو تو تمہارے لئے زیادہ ثواب کا موجب ہوگا۔اور اگر تم بہت بڑا کام اپنے ذمہ لو یا ایک بڑے کام کا عہد کر لو۔اور اسے کرو نہیں تو یہ تمہارے لئے عذاب کا باعث ہوگا اور تم الزام کے نیچے ہو۔یہ قصہ اللہ تعالیٰ نے لغو نہیں سنایا۔یہ تمہیں عمل کیلئے سنایا ہے۔جتنا تمہیں حکم ملے وہ کرو۔زائد سوال مت کرو۔یہود کو حکم دیا گیا تھا کہ گائے ذبح کرو۔انہیں چاہئے تھا کہ وہ ایک خوب موٹی تازی گائے لے کر ذبح کر دیتے۔وہ ثواب کے مستحق ہوتے لیکن انہوں نے خود اپنے اوپر قید بڑھائی۔فرمایا۔قریب تھا کہ وہ نہ کرتے تو تم اپنے لئے سہولت اختیار کرو اور جو کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اسے پوری طرح اداری کرو۔اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ جو احکام ہمارے لئے مقرر ہیں ہم انہیں پورا کریں اور جو وعدے کریں ان سے بڑھ کر ان کا ایفاء کریں آمین ثم آمین۔ل البقرة: ۶۸تا۲ الفضل ۲۰ اگست ۱۹۱۴ء) بخاری کتاب الصوم باب حق الجسم في الصوم سیرت ابن ہشام عربی جلد ۳ صفحه ۶۸ مطبع البابي الحلبى مصر ١٩٣٦ء بخاری کتاب اللباس باب الجلوس على الحصير ونحوه