خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 156

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء کہا کہ تم ہم سے ہنسی کرتے ہو اور بات کو قہقہ لگا کر ہنسی میں ٹال دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ بنسی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔کیا میں جاہل ہوں؟ انہوں نے کہا کہ پھر آپ بیان کریں کہ گائے کیسی ہو۔حضرت موسیٰ نے فرمایا۔کہ درمیانہ عمر کی ہو۔نہ بوڑھی ہو نہ بچہ۔پھر انہوں نے سوال کیا کہ اس کا رنگ کیسا ہو حضرت موسیٰ نے فرمایا۔اس کا رنگ نہایت عمدہ ہو اور وہ خوبصورت گائے ہو۔کہا کیسی گائے ہو۔فرمایا وہ گائے کام میں نہیں لگائی گئی بے داغ ہے نہ ہل چلاتی ہے نہ کھیتی کو پانی پلاتی ہے۔پھر انہوں نے اسے ذبح کیا لیکن غذر معذرت برابر کرتے رہے اور مشکل سے اس حکم پر عمل کی توفیق ملی۔مسلمانوں کو اس سے یہ بتلایا کہ تمہارے لئے بھی احکام نازل ہوں گے۔تم بہت سوال مت کیا کرنا کہ جی یہ کام ہم کیوں کریں ، اس میں کیا حکمت ہے اور اس کے شرائط کیا کیا ہیں۔یہ ایسا کیوں ہے ایسا کیوں نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس بات کی ضرورت ہوگی میں خود بیان کر دوں گا۔تم اگر خود شرائط بڑھاؤ گے اور سوال کرو گے تو تم کو دقتوں کا سامنا ہوگا اور تم مشکلات میں پڑ جاؤ گے۔عبد اللہ بن عمرو بن العاص فرماتے ہیں کہ میں دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کیا کرتا تھا۔نبی کریم سایہ تم نے یہ معلوم ہونے پر مجھے طلب فرمایا۔اور فرمایا کہ یہ طریق ٹھیک نہیں ہے ایک ماہ میں تین دن روزے رکھا کرو اور پھر افطار کیا کرو۔میں نے عرض کیا میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت پاتا ہوں۔آپ نے فرمایا پھر نبی اللہ داؤد کا روزہ رکھا کرو۔وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کیا کرتے تھے۔میں نے عرض کیا میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت پاتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں۔اس سے بہتر کوئی روزہ نہیں ہوسکتا۔پھر جب یہ بوڑھے ہو گئے تو ان کو طاقت نہ تھی۔کہتے ہیں پھر میں کہا کرتا تھا۔کاش! میں نبی کریم سلام کا حکم مان لیتا اور سوال نہ کرتا۔لیکن مجبور ہوں کہ نبی کریم صلی اشیا کی تم سے وعدہ کر چکا ہوں اس لئے چھوڑ نہیں سکتا۔جنگ اُحد میں جانے سے پہلے نبی کریم صلی یہ تم نے ایک خواب دیکھا کہ ایک گائے ذبح کی گئی ہے (یہاں بھی اَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً ہے ) دوسرے یہ دیکھا کہ میری تلوار میں کچھ نقص ہے اور میں نے ایک مضبوط زرہ پر ہاتھ رکھا ہے۔اس کی تعبیر آپ نے یہ کی کہ چند صحابہ مارے جائیں گے اور جنگ میں میرا کوئی رشتہ دار بھی مارا جائے گا۔اور وہ زرہ مدینہ منورہ