خطبات محمود (جلد 4) — Page 160
خطبات محمود جلد ۴ ۱۶۰ سال ۱۹۱۴ء کہتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں اور تم رذیل ہو، ہم تمہارے متبع کس طرح ہو جائیں اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی پیاری جماعت کو بڑھانے کیلئے قربانی کرتا ہے۔تب بیماریاں آتی ، زلزلے اور قحط پڑتے لڑائیاں ہوتی ہیں۔اس وقت وہ خود سر لوگ گھٹنوں کے بل گرا دیئے جاتے ہیں۔اور خدا کی مشیت بتلا دیتی ہے کہ جس شخص کی مخالفت تم نے کی وہ سچا ہے۔یہ بھی ایک مامور کا زمانہ ہے اس زمانہ میں بھی اس قسم کی قربانیاں چاہئیں۔ایک قربانی تو ہماری طرف سے چاہیئے اور ایک قربانی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ہماری طرف سے یہ قربانی ہوگی کہ جو عہد ہم نے اللہ سے کیا تھا اس کو ہم ثابت کر دیں کہ وہ بالکل سچا تھا اور اس کیلئے ہمیں جو قربانی بھی کرنی پڑے ہم کریں۔اور ایک قربانی خدا کروائے گا تاکہ وہ اپنے رسول کو سچا ثابت کر دے اور بتا دے کہ وہ جو اس قلیل جماعت کو برا کہتے ہیں اور ان کو رذیل سمجھتے ہیں ان کا غگو ٹوٹے اور ان کو معلوم ہو کہ یہ سچ ہے۔خدا کی طرف سے وہ قربانی شروع ہو چکی ہے۔طاعون آئی اور خطر ناک طور پر آئی اور زلزلے بھی آئے۔وہ زلزلے تو دنیا کے کسی کسی حصہ پر آتے تھے مگر اب جو زلزلہ آیا ہے اس نے تمام دنیا کو پکڑ کر ہلاتی دیا ہے۔اور وہاں ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی قربانیاں ہو رہی ہیں۔دنیا اپنے مال و دولت گھمنڈ کرتی تھی کہ ہمیں اب کسی کی پر واہ کیا ہے۔خدا نے ان کا یہ گھمنڈ دور کرنا ہے۔پس اس وقت میں تمہیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے تو قربانی کر دی۔خدا تعالیٰ مدتوں سے قربانیاں کر رہا ہے اس نے ہمارا اتنا انتظار فرمایا ہے۔تم اب قربانی کرو۔ہم میں اب تک بہت ہیں جنہوں نے اب تک کوئی قربانی نہیں کی۔خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا تم اپنا وعدہ پورا کرو تا تم پر انعام ہوں اور تمہیں ترقی ملے۔جنگ میں فاتح و مفتوح دونوں چور ہو جاتے ہیں۔ہندوستان سے جنگ ابھی بہت دور ہے لیکن یہاں بھی اس کا اثر تجارت پر اور دیگر اشیاء پر پڑ رہا ہے۔تو میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اول تو تم نے جو عہد اللہ سے کیا ہے ہوا ہے اسے پورا کرو۔دوسرے ایک عہد ہے جو حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت سے لیا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس گورنمنٹ سے وفاداری رکھنا۔عہد کرنے تو آسان ہوتے ہیں لیکن ان کا نبھانا مشکل۔اس وقت ہماری گورنمنٹ مشکل میں ہے اور یہی ایک موقع ایسا آیا ہے کہ ہم اپنے عہد کو پورا کر کے دکھلائیں۔اس میں صرف ہماری صداقت ہی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود کی اس تحریر کی بھی صداقت ہے جو