خطبات محمود (جلد 4) — Page 159
خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۹ (۳۶) ہر ایک ترقی قربانی چاہتی ہے (فرموده ۲۱۔اگست ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت تلاوت کی :۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ پھر فرمایا:۔آج میرا ارادہ تھا کہ ایک نہایت ضروری معاملہ کی نسبت تفصیل سے سناؤں چونکہ میری طبیعت کچھ اچھی نہیں ہے اس لئے مختصر طور پر کچھ ہدایات سنا دیتا ہوں۔ہر ایک ترقی جو دنیا میں ہوتی ہے وہ کچھ قربانی چاہتی ہے کوئی قوم آج تک ترقی کی منزل پر نہیں چڑھی جب تک اس نے کچھ قربانی نہیں کی۔ہمارے آنحضرت ایسی ہی تم سے اللہ تعالیٰ کو کتنا محبت پیار تھا اس نے کچھ مال اللہ تعالی پیار حتی کہ فرما دیا۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اگر اللہ تعالیٰ سے محبت کرنی ہو تو اس کیلئے ایک طریق ہے کہ تم میری پیروی کرو تم خدا تعالیٰ کے محبوب ہو جاؤ گے لیکن آپ کو بھی مسلمانوں کو ترقی دینے کے لئے قربانیاں کرنی پڑیں۔اپنا وطن ترک کیا ، اپنے عزیز اور اپنے پیارے خادم قربان کرنے پڑے، پھر کسی کا باپ اور کسی کا بیٹا اور کسی کا بھائی قربان ہو گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ترقی دی۔قربانیاں دو قسم کی ہوا کرتی ہیں۔ایک وہ جو انسان خود کرتا ہے اور ایک وہ جو خود نہیں کرنی پڑتیں بلکہ جب مامور آتا ہے اور لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں اور ہنسی کرتے ہیں