خطبات محمود (جلد 4) — Page 73
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے گا۔خالد بن ولید جیسی تلوار کس نے چلائی مگر خلیفہ ابوبکر ہوئے۔اگر آج کوئی کہتا ہے کہ یورپ میں میری قلم کی دھاک بچی ہوئی ہے تو وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔خلیفہ وہی ہے جسے خدا نے بنایا۔خدا نے جس کو چن لیا اس کو چن لیا۔خالد بن ولید نے ساٹھ آدمیوں کے ہمراہ ساٹھ ہزار آدمیوں پر فتح پائی۔عمر نے ایسا نہیں کیا مگر خلیفہ عمر ہی ہوئے۔حضرت عثمان کے وقت بڑے جنگی سپہ سالار موجود تھے۔ایک سے ایک بڑھ کر جنگی قابلیت رکھنے والا ان میں موجود تھا۔سارے جہان کو اس نے فتح کیا مگر خلیفہ عثمان ہی ہوئے۔پھر کوئی تیز مزاج ہوتا ہے کوئی نرم مزاج۔کوئی متواضع ، کوئی منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ہر ایک کے ساتھ سلوک کرنا ہوتا ہے جس کو وہی سمجھتا ہے جس کو معاملات ایسے پیش آتے ہیں۔کوئی کہتا ہوگا کہ بڑی حکومت مل جاتی ہے۔دو بچوں کا خوش کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے یہاں تو چار لاکھ انسان کے ساتھ معاملہ ہے۔ملائکہ کو اپنے اپنے کام کی دھن ہوتی ہے کسی کو کوئی کام سپرد ہوتا ہے کسی کے کوئی۔ایک فرشتے کے سپر دموت کا کام ہے بعض بارشوں پر اور بعض پہاڑوں کے موکل ہیں۔غرض یہ کہ ہر ایک فرشتہ کسی ایک کام پر مقرر ہے۔مگر بر خلاف اس کے آدم میں تمام مادے رکھے ہیں۔موت کا فرشتہ بشارت نہیں جانتا۔اور بشارت کا فرشتہ موت کو۔ملائکہ مامور ہیں۔وہ گناہ کرنا جانتے ہی ہے نہیں۔وہ غفاری اور ستاری کی صفت کو کیا سمجھیں۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ " کے ماتحت کام کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر اگر ہو سکتا ہے تو انسان ہی ہوسکتا ہے۔کوئی ایسی ہستی ضرور ہونی چاہیئے جو بڑھے گھنٹے نیکی کرے اور بدی کرے۔اسی طرح جو خلفاء ہوتے ہیں ان میں یہ رنگ پیدا کر دیتا ہے۔اسماء صفات کی الہی ہیں۔ملائکہ پر جب پیش کئے گئے تو انہوں نے لا علم لنا کہا۔بے چارے شَدِيدُ الْاِنْتِقَامِ اور غفار کی صفت کیا سمجھ سکتے ہیں۔اسی واسطے لکھا ہے کہ انبیاء کا درجہ ملائکہ سے بڑا ہوتا ہے۔انہوں نے خدا کی تمام صفات کا مظہر اپنی ذات کو قرار دیا ہے۔آدم نے تو سب کچھ بتلا دیا۔لوط اور لوط کی بستی والے، ابراہیم اور اس کے مخالف ہموسی“ اور اس کے مخالف کسی جگہ بخشیش اور کسی جگہ سزا ہورہی ہے۔کہیں نیکی ہو رہی ہے کہیں بدی ہو رہی ہے۔بظاہر ملائکہ میں سے ہر ایک لائق ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لائق نہیں تب ہی فرمایا۔انّی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔اس زمانہ میں بھی ملائکہ نے اعتراض کیا لیکن آخر کار ملائکہ صفت فورا اپنی غلطی تسلیم کر کے ایمان لے آتے