خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 72

خطبات محمود جلد ۴ ۷۲ سال ۱۹۱۴ء کر دیا۔اسی طرح جب کبھی دنیا میں کوئی نئی بات انسان کے سامنے آتی ہے تو خواہ وہ کیسی صداقت پر مبنی کیوں نہ ہو۔شروع شروع میں طبیعت ضرور اس سے متنفر ہوتی ہے۔اسی لئے جب انبیاء علیہم السلام دنیا میں آتے ہیں دنیا میں ان کی ضرور مخالفت ہوتی ہے اور اس طرح کے اعتراضات ہونے شروع ہو جاتے ہیں کہ یہ بھی ہماری طرح کا ایک انسان ہے۔ہماری طرح کھاتا پیتا اور ہم میں چلتا پھرتا ہے اور آج یہ کہتا ہے ہے کہ میں تمہارا سردار ہو گیا ہوں۔پھر جب دلائل سنتے ہیں تو جو ملائکہ صفت ہوتے ہیں وہ جھٹ اس کو مان لیتے ہیں۔انبیاء اور ان کے خلفاء کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔مامورخلیفہ کے ہونے پر طبائع میں یہ خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ ہم اور یہ برابر کے تھے یہ ہم سے منوا تا تھا اور ہم اس سے منوا لیتے تھے۔آج یہ مطاع ہو جائے اور ہم مطیع ہو جائیں اس کو ایسا کونسا سر خاب کا پر لگا ہوا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور خلفاء کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے اور انبیاء سب سے زیادہ شان کے ساتھ آتے ہیں اور پھر مامور خلفاء کے ساتھ بھی یہی ہوتا آیا ہے۔تو پھر غیر مامور خلفاء کی تو سب سے زیادہ مخالفت ہونی ضروری ہے۔آدم آیا تھا ملائکہ نے اعتراض کر دیا۔اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا۔کہ تو ایک مفسد کو جو فساد کرے گا پیدا کرتا ہے۔اور ہم تو ہمیشہ تیری تسبیح و تقدیس کرتے تھے اور قدیمی خدمت گزار تھے پھر کیا ضرورت تھی کہ ایک خلیفہ بنایا جاوے۔اس غریب نے کیا کرنا ہے۔یونہی فساد ہوگا ( یہ لوگوں میں تبلیغ کرے گا۔وہ اس کو نہ مانیں گے۔پھر وفد آئیں گے۔ٹریکٹ شائع ہوں گے اور قوم کا روپیہ ضائع ہو گا ) ایک انسان دوسرے انسان پر کسی ایک نہ ایک بات میں فضیلت بھی رکھتا ہے اس میں کیا شک ہے۔اگر ایک بات میں موسیٰ بڑھے ہوئے تھے تو دوسری میں داؤد۔ایک میں مسیح زیادہ ہیں تو دوسری میں سلیمان۔جو خلیفہ مقرر کیا جاتا ہے اس میں دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کل خیالات کو یکجا جمع کرنا ہے۔اس کی مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے ممکن ہے کسی ایک بات میں دوسرا شخص اس سے بڑھ کر ہو۔ایک مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر کیلئے صرف یہ نہیں دیکھا جا تا کہ وہ پڑھا تا اچھا ہے کہ نہیں ، یا اعلیٰ ڈگری پاس ہے یا نہیں۔ممکن ہے اس کے ماتحت اس سے بھی اعلیٰ ڈگری یافتہ ہوں۔اس نے تو انتظام کرنا ہے۔افسروں سے معاملہ کرنا ہے۔ماتحتوں سے سلوک کرنا ہے یہ سب باتیں اس میں دیکھی جاویں گی۔اسی طرح سے خدا کی طرف سے جو خلیفہ ہوگا اس کی