خطبات محمود (جلد 4) — Page 74
خطبات محمود جلد ۴ ۷۴ سال ۱۹۱۴ء ہیں۔میں نے دیکھا ہے۔ایک دن ایک خط آتا ہے جس میں پچاس اعتراض کئے ہوتے ہیں۔دوسرے دن خط آتا ہے حضور میرے خط کے جواب کی ضرورت نہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میں اولین بیعت کنندگان میں کیوں نہ شامل ہو سکا میرے لئے خاص وقت میں دعا فرماویں۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم سے ایسا کام اس نے لے لیا۔دراصل یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم سے کوئی خدمت لے لی۔خدمت تو خدا کے فضل کے ماتحت ہوتی ہے نہ یہ کہ چونکہ میں نے خدمت کی ہے مجھے یہ ہونا چاہیئے۔آنحضرت سلیا یتیم کی وفات کے بعد انتخاب خلافت کے وقت انصار نے حضرت ابوبکر کے مقابلہ میں یہ امر پیش کیا تھا کہ ہم نے بڑی مدد کی تمہیں جگہ دی۔وغیرہ وغیرہ۔حضرت ابوبکر اللہ تعالیٰ کے مامور تھے۔اس لئے فرمایا۔ہم کہتے ہیں تم مان جاؤ اگر ملائکہ صفت ہو۔جب تک ضد نہ ہو، شرارت نہ ہو، خدا تعالیٰ فرماتا ہے انجام نیک ہوتا ہے۔ملائکہ کو آخر حکم ہوا کہ اسْجُدُ والأدمت پہلے ملائکہ کوکوئی حکم نہیں ملا تھا کہ سجدہ کرو۔انہوں نے جب آدم پر اعتراض کیا تو پھر فرمایا۔اب تمہیں آدم کی ضرور فرمانبرداری کرنی ہوگی۔حضرت خلیفہ المسیح کے عہد میں بعض نے برخلاف آواز اٹھائی تب حضرت نے دوبارہ بیعت لی اور کھول کھول کر بیعت لی۔اور ہر ایک سے اعلان کروایا۔انسان کو چاہیئے کہ وہ سوچے کہ اگر میں بڑا ہوں تو خدا مجھے خود بڑا بنا دے گا اور اگر میں چھوٹا ہوں اور بڑا بننا چاہتا ہوں تو ذلیل ہوں گا۔الفضل ۲۲۔اپریل ۱۹۱۴ء) البقره: ۳۱ تا ۳۴ التحريم: البقرة: ٣٥