خطبات محمود (جلد 4) — Page 407
خطبات محمود جلد - ۴ ۴۰۷ سال ۱۹۱۵ کی طرف دی ہے اور پہلے بھی فرمایا ہے کہ رسول کی وساطت سے اگر وہ گناہ معاف کرواتے تو معاف ہو سکتے تھے اور یہ اس لئے کہ رسول کے حکموں کو توڑ نا کوئی معمولی بات نہیں ۔ پس یہ سوال بہت گندہ سوال ہے کہ رسول کا یہ حکم الہام ہے یا اس کا اپنا ہے۔ یہی سوال کر کے ایک جماعت تباہ ہو چکی ہے اور وہ چکڑالوی جماعت ہے اور اس سے پہلے متفرق طور پر اور لوگ بھی ہوئے ہیں ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ سوال ہماری جماعت میں بھی پایا جاتا ہے کہ حضرت صاحب نے فلاں بات الہام سے کہی ہے یا یونہی کہی ہے۔ ابھی پرسوں کا ذکر ہے کہ ایک آدمی نے لکھا ہے کہ ایک احمدی غیر احمدی کولڑ کی دینے لگا تھا میں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ حضرت مسیح موعود کا حکم ہے کہ غیر احمدی کولڑ کی نہیں دینی چاہیئے تو اس نے کہا کہ حضرت صاحب نے یہ حکم الہام سے دیا ہے یا خود دے دیا ہے ۔ اگر الہام سے ہے تب تو اس کا ماننا ضروری ہے اور اگر نہیں تو اس کے خلاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن وہ نادان نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَينَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مَا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا - اگر کوئی کہے کہ یہ تو آنحضرت صلی الا السلام کے متعلق ہے اور خاص آپ ہی کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ مرض اس وقت بھی بعض لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے اور وہ عام اصول کو خاص کر دیتے ہیں اور خاص کو عام ۔ چنانچہ بعض لوگ لو تقول والی آیت کو خاص کرتے ہیں اور بعض نادان بعض خاص باتوں کو عام کر دیتے ہیں جیسا کہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف یہ استدلال کیا ہے کہ چونکہ یحیی کیلئے آیا ہے لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سميا ۲ پس نبی وہ ہوتا ہے جس کا نام ایسا نام ہے کہ اس سے پہلے کسی کا وہ نام نہ ہو اور چونکہ یہ بات حضرت مسیح موعود میں نہیں پائی جاتی اس لئے وہ نبی نہیں ۔ حالانکہ انبیاء کی جو خصوصیات ہوتی ہیں ان کا پتہ الفاظ سے ہی لگ جاتا ہے ۔ یہ عام نشان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا ہر ایک نبی کی صداقت سے تعلق ہوتا ہے ۔ مثلاً خدا تعالیٰ مخالفین آنحضرت صلی ما ایلم کو فرماتا ہے کہ ولو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِینَ ۳ے کہ اگر یہ جھوٹا دعوی کرتا تو ہم اسے پکڑ کر ہلاک کر دیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے ۔ اس کے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ یہ صرف نبی کریم صلی اسکیم کے متعلق ہے اور کسی کیلئے نہیں تو پھر نبوت کا دعوی کرنا ہر ایک کیلئے آسان کام