خطبات محمود (جلد 4) — Page 408
خطبات محمود جلد ۴ ۴۰۸ سال ۱۹۱۵ء ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ میرے چہرے پر چونکہ داغ ہے اس لئے میں نبی ہوں۔اسے کہا جائے کہ یہ کس طرح نبی ہونے کی نشانی ہے تو وہ کہے کہ یہ نشانی خاص میری صداقت کیلئے ہے۔اگر میں نبی نہ ہوتا تو یہ نشان ہرگز نہ ہوتا قضیہ شخصیہ ہے اس لئے اس نشان کا میرے چہرہ پر ہونا میری نبوت کی صداقت ہے۔پس اس طرح تو کوئی کا ذب بھی جھوٹا نہیں ثابت ہو سکتا۔پس یہ عام جہالت اور نادانی کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ انبیاء کے متعلق کسی خاص قاعدہ کو عام کیا جائے اور عام کو خاص۔پس ممکن ہے کہ حَتَّى يُحَكِّمُوك میں بھی کوئی کہہ دے کہ یہ رسول اللہ کے احکام کے ماننے کے متعلق ہے اول تو اس کا خاص کرنا ہی نادانی ہے۔دوسرے اس کے عام ہونے کے متعلق قرینہ بھی موجود ہے چنانچہ پہلے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللہ۔یہ ایک عام قاعدہ خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ کوئی بھی نبی نہیں بھیجا گیا مگر اس لئے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس پر یہ نتیجہ نکالا ہے۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْافِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا تِهَا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا - پس یہ قضیه شخصیہ نہیں بن سکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر ایک رسول جو خدا کی طرف سے آتا ہے وہ اپنی دعوتی قوم کا مطاع ہوتا ہے۔اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے فلاں بات الہام سے کہی ہے یا خود بخود، اسے سوچنا چاہئیے کہ قرآن شریف تو اولوالامر کے حکم کو ماننے کی بھی تاکید کرتا ہے تو کیا وہ ان کے حکموں کو اس لئے مانتا ہے کہ انہیں الہام ہوتا ہے؟ کیا انگریزوں کا حکم اس لئے مانتا ہے کہ وہ الہام سے ہے۔ذرا مخالفت کر کے تو دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔پس اس سے سمجھ لینا چاہئیے کہ ہر ایک حکم کیلئے الہام کی ضرورت نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ تو خلفاء کے منکرین کی نسبت فرماتا ہے مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الفسقُونَ ہے کہ جو ان کی اطاعت نہیں کرتا وہ فاسق ہے۔پھر آنحضرت سالا ای پیتم فرماتے ہیں جو امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو امیر کی نہیں کرتا وہ میری بھی نہیں کرتا ۵۔پھر بیوی خاوند کا حکم مانتی ہے اور بیوی پر خاوند بغیر الہام حکومت کر سکتا ہے۔پھر رعیت پر حکام بغیر الہا کے حکومت کر سکتے ہیں مگر ( نَعُوذُ بالله ) خدا تعالیٰ کے انبیاء کی ہی ایسی گندی رائے ہوتی ہے کہ وہ جو بھی حکم دیں اس کے متعلق پوچھا جائے کہ الہام سے دیتے ہو یا اپنی رائے سے۔اگر وہ