خطبات محمود (جلد 4) — Page 406
خطبات محمود جلد ۴ ۴۰۶ سال ۱۹۱۵ء یہ بندہ کی اطاعت ہے بلکہ یہی سمجھو کہ خدا کی اطاعت ہے کیونکہ اس بندہ کی اطاعت خدا کے حکم کے ماتحت ہے پس وَلَوْ أَنَّهُم إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولَ لَوَجَدُوا الله توا بار حیما۔اگر انہوں نے غلطی کی تھی تو انہیں چاہیئے تھا کہ بجائے اس کے کہ اصرار کرتے تیرے پاس آتے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور تجھ سے بھی کہتے کہ اے رسول ! ہمارے لئے استغفار کر کیونکہ وہ حکم جس کا انہوں نے انکار کیا تھا وہ بھی تیرے ہی واسطہ سے دیا گیا تھا۔اس آیت کے سیاق سے بھی اور خود اس آیت سے بھی پتہ لگتا ہے کہ یہ حکم رسول کا حکم تھا کیونکہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ الہام احکام جاری ہوتے ہیں ان کے توڑنے والے کو بطور خود استغفار کافی ہوتا ہے۔رسول کے ذریعہ سے معافی مانگنے کی زائد شرط بتاتی ہے کہ یہ حکم دراصل رسول کا حکم تھا اس لئے براہ راست معافی کی بجائے رسول کی زندگی میں رسول کے ذریعہ معافی مانگنے کا حکم دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر وہ ایسا کرتے تو اللہ بڑا بخشش کرنے والا اور رحیم ہے، انہیں ضرور معاف کر دیتا۔مگر انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے آگے سے کہہ دیا کہ ہم خدا کی طرف سے جو حکم آتے ہیں ان کو مانتے ہیں رسول کے اپنے حکموں کو ماننے کی ہمیں ضرورت نہیں اس لئے نہیں مانتے۔فرما یافَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْهُم - تیرے رب کی قسم ! یہ ان کا غلط خیال ہے یہ اُس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتے جب تک کہ جس بات میں اختلاف ہو جائے اس میں تجھ سے فیصلہ نہ کرائیں۔یعنی کوئی ایسی بات جس کے متعلق خدا تعالیٰ کا کوئی صریح حکم نہ پایا جاتا ہو، اس میں اگر اختلاف ہو جائے تو انہیں چاہئے کہ تجھ سے فیصلہ کرائیں۔اور اگر وہ ایسی باتوں میں تجھے حکم نہیں قرار دیتے وہ مسلمان ہی نہیں ہیں۔اور پھر تجھے حکم ہی قرار نہ دیں۔یعنی طوعا و کر ہا تیرے فیصلہ کو قبول کریں بلکہ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّهَا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا - اپنے دلوں میں اس فیصلہ کے متعلق ذرا بھی کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں یعنی انہیں نبی کے فیصلہ پر شرح صدر ہو جائے اور پورے طور پر نبی کی اطاعت کریں۔یہ حکم ہے رسولوں کی اطاعت کے متعلق جب تک کسی میں ایسی اطاعت نہ پائی جاتی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیرے رب کی قسم ! وہ مسلمان ہی نہیں ہے چونکہ رسول کے حکم کا انکار تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے رسول کے رب کی قسم کھائی ہے یعنی اپنی نسبت رسول