خطبات محمود (جلد 4) — Page 350
خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۰ سال ۱۹۱۵ء ہیں لیکن احمدی نہیں بخشے جائیں گے۔اب انہوں نے بھی کہ دیا کہ اور تو سب بخشے جاسکتے ہیں لیکن بیعت کرنے والے نہیں بخشے جائیں گے۔برہمو سماج والے بخشے جائیں گے کیونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کے خلیفہ کی بیعت نہیں کی اور خدا کے فرستادہ مسیح موعود کو نہیں مانا۔یونیٹیرین عیسائی باوجود اس کے کہ وہ آنحضرت مصلی یہ تم کو گالیاں دیتے ، قرآن کریم کی بے ادبی کرتے اور اسلام کو جھوٹا مذہب مانتے ہیں بخشے جائیں گے مگر یہ مبائعین نہیں بخشے جائیں گے کیونکہ انہوں نے ایک خلیفہ کی بیعت کی ہے۔پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پیغام میں ایک مضمون نکلا ہے جس میں لکھا ہے کہ اب سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جو محمود یہ بغیر تمیز دریدہ دہنی اور دلیری سے ان لوگوں کو جن کو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمان کہا ہے کا فرقرار دیتے ہیں، کیا وہ خود اپنے منہ سے کافر نہیں بن جاتے۔پھر وہ محمود یہ جو ان کو خلاف عقیدہ اپنے پیر کے مسلمان سمجھتے ہیں وہ ہمیں بتائیں کہ وہ اپنے پیر کو اس حدیث کے ماتحت کیا سمجھتے ہیں نیز یہ بھی معمہ حل کر دیں کہ کیا ایک مومن کافر کی بیعت کر سکتا ہے۔“ دیکھو ان کے نزدیک غیر احمدی با وجود حضرت مسیح موعود کو گالیاں دینے ،جھوٹا، فریبی ، دغا باز اور دکاندار وغیرہ وغیرہ کہنے ، اس سلسلہ کو باطل ماننے ، خدا تعالیٰ کے وعدوں کو جھٹلانے اور آیت اللہ کی تکذیب کرنے کے تو اهدی مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا یعنی پکے مسلمان ہیں مر مبائعین کافر اور ان سے بدتر ہو گئے ہیں۔یہ نتیجہ ہے بغض اور ضد کا۔ہماری جماعت کے لوگ اس بات کو یاد رکھیں کہ بغض اور حسد کی وجہ سے حد سے نہیں بڑھنا چاہیئے۔اس میں شک نہیں کہ انسان کے دل میں گالیاں سن کر ضرور جوش آتا ہے مگر مومن کو چاہیئے کہ حد پر جا کر رک جائے اور اس سے آگے قدم نہ اٹھائے۔مانا کہ وہ تم پر زیادتیاں کرتے ہیں اور تمہیں دکھ پہنچاتے ہیں لیکن وہ ایسا کرتے جائیں تمہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئیے۔ممکن ہے تم میں سے بھی بعض لوگ کہہ اٹھیں کہ چونکہ وہ اس قدر حد سے بڑھ گئے ہیں اس لئے ان کے متعلق ہم کوئی فتویٰ دے دیں لیکن ایسا نہیں چاہئیے۔دیکھو انہوں نے ہمیں کا فر کہا ہے ہم بھی اگر انہیں کا فر کہیں تو پھر دنیا میں مومن کون رہ جائے گا۔یہ ایک مشکل مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کس طرح کا فر ہو جاتا ہے اس کے