خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 351

خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۱ سال ۱۹۱۵ء سمجھنے میں لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔لیکن تم لوگ اس بات کو خوب یاد رکھو کہ اگر فتوؤں کو ایسا وسیع کیا جائے تو دنیا میں کوئی بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔مسلمانوں میں جس قدر بڑے بڑے آئمہ گزرے ہیں، ان کے متعلق کفر کے فتوے ملتے آئے ہیں۔پس اگر اس حدیث کو ایسا ہی وسیع کیا جائے جیسا کہ یہ لوگ کرتے ہیں تو وہ سب مسلمان کا فر قرار پاتے ہیں۔فرقہ معتزلہ پر بہتوں کی طرف سے کفر کا فتویٰ لگا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود نے انہیں مسلمان کہا ہے۔پس معتزلی جماعت کے پیدا ہونے کے وقت سے اس وقت تک جس قدر مسلمان ہوئے ہیں یا کم سے کم ان میں سے اکثر کو تو ضرور کا فر کہنا پڑے گا۔ابن تیمیہ جیسا عظیم الشان امام - حضرت محی الدین ابن عربی کو کافر قرار دیتا اور ابلیس اور رئیس الملحدین کے نام سے یاد کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود دونوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پھر کیا اس امام کو بھی کا فر کہو گے۔غرض اگر اس حدیث کو عام کرو تو آنحضرت صل یتیم کے کچھ عرصہ کے بعد سے آج تک ایک بھی مسلمان ثابت نہیں کر سکتے۔پھر اتنا تو غور کریں کہ جن غیر احمد یوں کو یہ لوگ مسلمان قرار دیتے ہیں وہ سب کے سب ایک دوسرے کو کا فرقرار دیتے ہیں پھر ان کو مسلمان کہنے کا ان کے پاس کیا ثبوت ہے۔اول تو وہ سب ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور اگر تعلیم یافتہ گروہ کا ایک حصہ اس سے پاک ہے تو وہ ان کا فر کہنے والوں کو بھی مسلمان قرار دیتا ہے اور اس طرح کافر بن جاتا ہے۔پھر ان لوگوں کو اپنے ہی خیال کے خلاف مسلمان کیوں کہتے ہیں۔دراصل لوگوں نے اس مسئلہ کو سمجھا ہی نہیں۔میرا ارادہ ہے کہ کسی وقت اس مسئلہ کے متعلق اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کچھ لکھوں اور اس حدیث کا جو مطلب خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھایا ہے اس سے لوگوں کو آگاہ کروں۔آج کل تو جماعت کے دو ٹکڑے ہیں۔ایک دوسرے کو جو چاہے کہہ لے لیکن حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کی بیعت میں تو دونوں فریق تھے کیا وہ اس فریق کو جو غیر احمدیوں کو کا فرقرار دیتا بھت کافر کہتے تھے۔اگر نہیں اور یقینا نہیں کیونکہ وہ ان لوگوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے تو اب یہ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود کے اس فتویٰ کے مطابق کہ کافر کو مسلمان کہنے والا بھی کافر ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کی نسبت یہ ہم پر فتوی لگانے والے کیا کہیں گے۔غرض اپنی نادانی سے یہ لوگ ساری دنیا کو کافر بناتے ہیں اور کوئی جماعت بھی مسلمانوں کی نہیں رہتی۔غیر احمدی اس لئے کا فر کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں