خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 349

خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۹ سال ۱۹۱۵ء عیسائی جو آنحضرت سال اینم کے منکر ہیں اور آپ پر طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں خدا تعالیٰ کو واحد نہیں بلکہ تین مانتے ہیں۔اور ایک انسان کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں ان سے احمدیوں کو جو آنحضرت صلہ یہ تم کو عزت دینے والے، آپ کو سچا ماننے والے اور آپ کو خاتم النبین یقین کرنے والے خدا کو واحد سمجھنے والے اور کسی کو اس کا شریک نہ بنانے والے ہوں زیادہ گمراہ اور ہدایت سے دور قرار دیتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ بھی بہت بڑا غیور ہے اس نے اپنی غیرت سے کئی ایک ایسے واقعات دکھائے کہ غیر احمدیوں کو سخت ذلیل ہونا پڑا۔واقعات تو بہت ہوئے ہیں لیکن میں صرف ایک کی نسبت کچھ سناتا ہوں کسی لڑکے کو احمدیت کی تبلیغ کی گئی جب اس کے والد کو اس کا پتہ لگا اور اس نے دیکھا کہ لڑکا احمدیت کی طرف مائل ہوتا جاتا ہے تو اس نے ایک مجلس میں کہا کہ کاش میرا لڑکا احمدی نہ ہو بلکہ عیسائی ہو جائے تو مجھے اتنا افسوس نہیں ہوگا۔کچھ مدت کے بعد واقعہ میں وہ لڑکا عیسائی ہو گیا۔اب اس کے باپ کو ہوش آئی اور احمدیوں کے پاس آیا کیونکہ اور تو کوئی ایسا ذریعہ نہ تھا۔کہ جس سے وہ اپنے لڑکے کے واپس لانے کی کوشش کرتا اور کامیاب ہو جاتا ) اور آکر کہا کہ اسے احمدی کر لو اور عیسائیت سے نکال لاؤ۔پس ایسے لوگوں نے ہی اس بات کی تصدیق کر دی کہ پہلے زمانہ میں بھی ضرور یہود نے مسلمانوں کو یہ کہا تھا۔اب اس کے بعد دیکھو ہمارے اندر اختلاف ہوا۔اس بات کو جانے دو کہ ہم غلطی پر ہیں یا وہ مگر کچھ ہم میں سے اور کچھ ان میں سے ایسے لوگ ضرور مانے کے جانے چاہئیں جو نیک نیتی سے ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہوں۔فرض کر لو ( گو ہم خدا کے فضل سے ہرگز غلطی پر نہیں ہیں ) کہ ہماری طرف سے ہی غلطی ہوئی ہے لیکن انہیں پھر بھی یہ مانا پڑے گا کہ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی عداوت اور ضد کی وجہ سے مخالفت نہیں کر رہے۔اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ وہ غلطی پر ہیں اور وہ ضرور غلطی پر ہیں) تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ان میں سے کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو غلطی اور نانی سے مخالفت کر رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ باتیں جو پہلے دوسرے لوگ کہتے تھے اب اس مخالف گروہ نے کہنی شروع کرے دی ہیں اور وہی رنگ اختیار کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تشَابَهَتْ قُلُوبُهُمُ سے واقع میں ان کے دل انہی کی طرح کے ہو گئے ہیں اس لئے وہی اعتراض کرنے لگ گئے ہیں جو حق کی مخالفت میں ضد اور ہٹ میں آنے والا گروہ کیا کرتا ہے۔ان کی طرف سے ایک وقت کہا گیا تھا کہ مشرک بخشے جائیں تو بخشے جا سکتے