خطبات محمود (جلد 4) — Page 254
خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۴ سال ۱۹۱۴ء حج کا قصد کرے اس کو کیا کرنا چاہئیے؟ وہ یہ کرے کہ حج میں رفت، فُسُوق اور جدال نہ کرے، یہ اس کیلئے جائز نہیں ہے۔ہر وہ شخص جو حج کیلئے جاتا ہے اس کیلئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حج میں رَفَتَ فُسُوق اور جدال نہ کرے۔رفت کیا ہے۔جماع کو کہتے ہیں۔یہ بھی حج میں منع ہے لیکن اس کے معنی اور بھی ہیں جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔بدکلامی ، گالیاں دینا ، گندی باتیں کرنا ، گندے قصے سنانا لغو اور بیہودہ باتیں کرنا جسے پنجابی میں گپیں مارنا کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر کوئی حج کو جاتا ہے تو اسے کسی قسم کی بد کلامی نہیں کرنی چاہئیے، گندے قصے نہ بیان کرنے چاہئیں، گپیں نہ ہانگنی چاہئیں۔فسوق کے معنی ہیں اطاعت اور فرمان نبرداری سے باہر نکل جانا۔حاجیوں کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر نہ نکلیں اور تمام احکام کو بجالا ئیں۔پھر جہاں لوگوں کا مجمع ہوتا ہے وہاں لڑائیاں بھی ہوا کرتی ہیں کیونکہ لوگوں کی مختلف طبائع ہوتی ہیں اور بعض تو ضدی واقعہ ہوتی ہیں اس لئے ان میں ذرا ذراسی بات پر لڑائی ہو جاتی ہے مثلاً یہی کہ اس نے میری جگہ لے لی، مجھے دھکا دے دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس لئے فرمایا کہ لڑائی نہ کرنا۔اس میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتایا ہے کہ جب تم حج کے لئے نکلو تو یہ تین باتیں یا درکھو۔آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔حج خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کیلئے مقرر کیا تھا۔آج احمدیوں کیلئے دینی لحاظ سے حج تو مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمد یوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کیلئے مقرر کیا ہے۔ہمارے آدمیوں میں سے جن کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے حج کرتے ہیں مگر وہ فائدہ جو حج سے مقصود - سالانہ جلسہ پر ہی آ کر اٹھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اس غرض کیلئے نکلے وہ گندی اور لغو باتیں نہ کرے۔خدا کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرے اور لڑائی جھگڑا بھی نہ کرے۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اگر یہاں آکر فائدہ اٹھانا ہے تو ان احکام پر عمل کرو۔ایک دوسرے سے فضول باتیں کرنا، گپیں ہانکنا، لغواور بیہودہ قصے سنا سنانا اور بہت جگہ بھی ہوتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی باتوں کو نابود کرنے کیلئے تلوار کھینچی ہے اور خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کو مٹا کر یہ اجتماع قائم کیا ہے تو جس طرح اس شخص کیلئے وہ حج بے فائدہ اور غیر مفید ہے جو رفت ہے وہ کی