خطبات محمود (جلد 4) — Page 253
خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۳ سال ۱۹۱۴ء ان سے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ پریذیڈنٹ ہوتا ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ ہاں ہماری انجمن کا بھی پریذیڈنٹ ہونا چاہیئے۔وہ دیکھتے ہیں کہ ایک سیکرٹری ہوتا ہے وہ سیکرٹری بنا لیتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ ایک محاسب ہوتا ہے وہ بھی محاسب بنا لیتے ہیں۔اسی طرح وہ تجارتی کمیٹی جونئی بنتی ہے وہ دوسری تجارتی کمیٹیوں کے قواعد وضوابط ا منگواتی ہے۔تعلیمی کمیٹی بنانے والے اور ایسی ہی کمیٹیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو ہر ایک قسم کی کمیٹی کے بنانے والے اپنے سے پہلی نظیروں سے فائدہ اٹھا کر ان کے قواعد پر عمل کرتے ہیں اور ایسا ہی ان کو کرنا بھی چاہیئے کیونکہ بڑا بیوقوف ہے وہ انسان جو تجربہ شدہ بات کو چھوڑ کر خود تجربہ کر نا شروع کر دے اور اگر وہ اس طرح کرنے لگے تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ اتنی تو کسی کی عمر بھی نہیں ہو سکتی کہ وہ سارے تجربے خود کر سکے۔وہ تو اسی کوشش اور سعی میں ہی وفات پا جائے گا۔تو تجربہ شدہ باتوں سے فائدہ اٹھا نا عقل مندوں کا کام ہے۔ہمارے لئے بھی جلسہ ہر سال آنے والی چیز ہے جس طرح وہ کمپنیاں دوسری اپنی ایسی کمپنیوں کے قواعد سے نتیجہ اخذ کرتی ہیں اسی طرح ہمیں بھی چاہئیے کہ اس جلسہ کی رنگ کی کسی چیز سے نتائج اخذ کر کے فائدہ اٹھا دیں۔ہم اپنے جلسہ کو کسی کمیٹی یا جلسہ سے کسی طرح بھی مشابہت نہیں دے سکتے۔انجمنیں اور کمیٹیاں تو دنیا میں بہت ہیں مگر ان سے ہمارے جلسہ کو اس لئے مشابہت نہیں ہے کہ وہ انسانوں کی بنائی ہوئی ہیں مگر ہم جس کام کی نظیر چاہتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اسی کا قائم کردہ ہے لوگ کئی جگہ اکٹھے ہوتے ہیں، میلے لگتے ہیں، جلسے ہوتے ہیں لیکن ہم کسی میلہ کیلئے اکٹھے نہیں ہوتے ہماری غرض تماشہ دیکھنا نہیں ہوتی۔دنیا میں لوگ تماشوں کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں ، بڑے بڑے سامان لاتے ہیں، خرید و فروخت ہوتی ہے، ہم اس کیلئے بھی جمع نہیں ہوتے۔اب ہم جو قواعد بنا ئیں تو کس طرح بنائیں اور کس چیز سے اپنے اجتماع کو مشابہت دیں۔اس کیلئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چیز دنیا میں ایسی ہے جس سے ہمارے جلسہ کو مشابہت ہوسکتی ہے اور وہ حج ہے۔حج کوئی میلہ نہیں ، نمائش نہیں کسی انجمن کا جلسہ نہیں ، وہ خدا کا کام ہے اور دین کیلئے قائم کیا گیا ہے۔خدا کے نبیوں کے ذریعہ قائم ہوا ہے اس لئے ہمیں چاہیئے کہ حج کے لئے جو قواعد اور ضوابط ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں حج کے متعلق احکام ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حج کے کچھ معلوم مہینے ہیں ( محرم ، ذی القعدہ ، ذی الحج ، سارا مہینہ یا دس دن ) پس جو کوئی ان میں