خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 11

خطبات محمود جلد ۴ " سال ۱۹۱۳ء بے شک وہ بڑی حکومت کا مالک تھا مگر خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ میں اَحْكُمُ الْحَاكِمِينَ ہوں۔غرض انسان کے اندر ایسی شہادتیں موجود ہیں جو اسے متنبہ کرتی رہتی ہیں کہ تجھ پر حکمران ایک طاقتور ہستی ہے اور وہ ایک ہے، اس کے سوا جن چیزوں کو بعض نادانوں نے معبود ٹھہرایا وہ تو ایسی کمزور ہیں کہ خود انہی کے بھائی بند دوسرے انسانوں نے اس میں تصرف کیا۔گنگا میں کوئی نہر نہ تھی۔خوش اعتقادوں نے کہا یہ پرمیشر کی ہے، اس میں سے حصہ نہیں لینے دیا۔آخر ایک صاحب نے اس میں سے بھی نہر کاٹ لی۔اور کسی نے خوب برجستہ مصرع کہا۔کاٹ لی ۲ نے نہر گنگا کاٹ لی بےشک انسانوں کو ایسی طاقتیں دی گئی ہیں۔مگر دوسری طرف اسے حد سے بڑھنے نہیں دیا۔وہ بڑے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن ایسی ٹھو کر دیتا ہے کہ اسے اقرار کرنا پڑتا ہے مجھ پر حکمران ایک اور ہستی ہے۔ایک مقام کے لوگوں نے حضرت اقدس سے ایک مسجد کے بارے میں عرض کیا۔فرمایا اگر ہمارا سلسلہ سچا ہے تو یہ مسجد تمہیں مل جائے گی۔بعض وقت قبولیت کے لئے خاص ہوتے ہیں۔اس کے بعد مقدمہ شروع ہوا۔حج جس وقت فیصلہ کیلئے بیٹھے تو ایک جج نے جو مسلمان تھا مخالفت شروع کی۔وہ فیصلہ احمدیوں کے خلاف لکھ کر گھر سے چلنے لگا اور نوکر کو بوٹ پہنانے کا حکم دیا کہ جان نکل گئی۔پھر اس کے قائم مقام جو حج ہوا، اس نے احمدیوں کو مسجد دلا دی۔یہ خدا کے کام ہیں اور وہ اپنی باتیں یوں منواتا ہے، اس میں کسی انسان کا دخل نہیں ہو سکتا۔کوئی عہدے میں خواہ کتنا بڑھ جائے ، وائسرائے ہو یا نواب بادشاہ ہو یا دنیا کی اصطلاح میں شہنشاہ (اصل شہنشاہ تو خدا ہے ) آخر ایک غریب کی طرح مٹی میں دفن ہوتا ہے۔یہ تو بادشاہوں کا حال ہے مگر ان سے بھی بڑھ کر ایک اور گروہ ہے جن کے مقابلے میں بادشاہ ہمیشہ ہارتے رہے ہیں یعنی انبیاء، وہ بھی خدا کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں۔دیکھو حضرت موسی جیسے آدمی نے فرعون جیسے مطلق العنان اَنَا رَبُّكُمُ الأَعلى سے کہنے والے بادشاہ کا مقابلہ کیا۔اور وہ آپ کے سامنے ذلیل و خوار سمندر میں غرق ہوا۔مگر خود جب خدا کا فرستادہ ملک الموت آیا تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہ کر سکے۔حتی کہ انبیاء میں سے جن کو معبود ٹھہرایا گیا جیسے کرشن، رام چندر ، حضرت مسیح ، ان پر زیادہ مصیبتیں ڈالی گئیں۔اور ان میں ایسی کمزوریاں لگا دیں کہ جن سے صاف کھل جائے یہ کسی اعلیٰ و مقتدر ہستی کے