خطبات محمود (جلد 4) — Page 109
خطبات محمود جلد ۴ 1+9 سال ۱۹۱۴ء اور عظمت کی وجہ سے تو بہت ہی محتاط ہونا چاہیئے۔اسی لئے صوفیاء لکھتے ہیں کہ بعض دعا ئیں انسان کی ہلاکت کا باعث ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو موسیٰ علیہ السلام سے مشرکوں نے کہا کہ ہم کبھی تم کو نہیں مانتے یہاں تک کہ خدا کونہ دیکھیں۔خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی کیا ہی پاک خواہش تھی۔وہ انسان جس کے دل میں یہ خیال نہیں کہ میں اپنے محبوب کو دیکھوں میرے خیال میں ایک لمحہ کیلئے بھی یہ بات نہیں سما سکتی کہ اس کو اس سے محبت ہو سکتی ہے۔اگر یہ اتنا کہتے کہ ہم خدا تعالیٰ کو دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ گستاخی نہیں تھی۔مگر انہوں نے تو یہ کہا کہ ولن تو من کہ اے موسیٰ ! ہم تم پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ خدا کو سامنے سامنے نہ دیکھ لیں۔اگر ایک زمیندار کا بادشاہ کو دیکھنے کو دل چاہے اور وہ دیکھنے کی درخواست کرے تو یہ کوئی گستاخی نہیں لیکن اگر وہ یہ کہے کہ جب تک بادشاہ میرے پاس خود نہ آئے اور میں اس کو دیکھ نہ لوں اس وقت تک میں معاملہ نہیں دیتا تو یہ اس کی گستاخی ہے۔یوں تو زمیندار ڈ پٹی کمشنر کی کوٹھی پر اس سے ملنے کی درخواست دے سکتا ہے اور ڈپٹی کمشنر بعض دفعہ ملتا بھی ہے اور ناراض نہیں ہوتا مگر زمیندار یہ نہیں کہہ سکتا کہ ڈپٹی کمشنر میرے گھر آ کر معاملہ مانگے گا تب دوں گا۔بات تو ایک ہی ہے لیکن ایک میں تحکم پایا جاتا ہے اور دوسری میں عاجزانہ رنگ۔عاجزانہ طریقہ سے مانگنے والا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور محکمانہ رنگ سے مانگنے والا تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ انبیاء، رسولوں ہجہ دوں ، اور ماموروں کے معجزات لوگوں کو دکھاتا ہے لیکن جو یہ کہے کہ جب تک میں یہ معجزہ نہ دیکھ لوں نہیں مانوں گا اس کو اللہ تعالیٰ کوئی معجزہ نہیں دکھاتا اور وہ اسی حالت میں تباہ ہو جاتا ہے۔تو منہ سے بات کہنے میں بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔اس لئے مومن کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہئے اور ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے تا کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی بات منہ سے نکل جاوے جس سے بجائے نفع کے نقصان اٹھانا پڑے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھاؤ مگر ایسے نہ ہو جاؤ کہ ادب کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے نقصان اٹھاؤ۔یہودیوں نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک کہ خدا کو نہ دیکھ لیں یہ شرط لگانے کی وجہ سے وہ تباہ ہو گئے۔ان پر بجلیاں گریں یہ سب کچھ انہوں نے دیکھا اور انہوں نے اپنی گستاخی کا نتیجہ پالیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر تباہی کے بعد ہم نے تم پر رحم کیا اور تم کوموت کے بعد زندہ کر دیا۔مجھے تعجب آیا کرتا ہے اس آیت کے متعلق ایک بزرگ کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ