خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 110

خطبات محمود جلد ۴ 11 + سال ۱۹۱۴ء وہ اصلی مردے نہیں تھے بیہوش ہو گئے تھے، اصلی مردے زندہ نہیں ہو سکتے مگر مسیح کے مردے زندہ کرنے کے وقت نہ معلوم کس طرح اصلی مردوں کا زندہ ہو نامان لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم نے یہ کہا کہ ہم خدا کو دیکھے بغیر ایمان نہیں لا سکتے تو تم تباہ و برباد ہو گئے جس طرح ایک گاؤں کے لوگ کہیں کہ ہم معاملہ نہیں دیتے۔لیکن جب پولیس کے سپاہی آکر ان کو تباہ کرنا شروع کر دیں تو دے دیتے ہیں اس لئے ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔اسی طرح جب ان کی قوم تباہ ہو گئی تو خدا تعالیٰ نے باقیوں کو معاف کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے معاف کرنے کی غرض یہ تھی کہ تم شکر کرو۔اس بات کو خوب یا درکھو بنی اسرائیل نے ہی نہیں کہا اب بھی بہت سے لوگ یہی کہتے ہیں۔میرے نام بیسیوں خطوط آئے ہیں کہ آپ دعوی کریں کہ میں الہام کے ذریعہ خلیفہ مقرر کیا گیا ہوں تو ہم مان لیں گے۔میں کہتا ہوں کہ جب الہام کے ذریعہ میں خلیفہ بنوں گا تو تم فاسق نہیں رہو گے بلکہ کافر ہو جاؤ گے۔یہ تو خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے کہ خلیفہ مامور نہیں ہوتا کیونکہ اگر مامور خلیفہ ہو تو انکار کرنے والے کا فر ٹھہرتے ہیں۔حضرت ابوبکر کی خلافت سے لوگوں نے انکار کیا مگر وہ کافر نہ ہوئے۔حضرت عمررؓ کی ہے خلافت سے لوگوں نے انکار کیا مگر وہ بھی کافر نہ ہوئے۔اسی طرح حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافتوں کے منکر بھی کا فرنہ ہوئے اور مسلمان ہی رہے۔لیکن اگر ان کی خلافت الہام کے ذریعے ہوتی اور ی پھر اس کے بعد لوگ انکار کرتے تو وہ مسلمان نہ رہتے۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ خلیفہ مامور نہیں ہوتا۔کیونکہ کچھ کمزوریاں اور غلطیاں ان لوگوں میں ہوتی ہیں جو خلیفہ کا انکار کرتے ہیں اس لئے وہ فاسق ہی ٹھہرتے ہیں نہ کہ کافر ہو جاتے ہیں۔فاسق نیک اعمال کرنے کی وجہ سے جنت میں جاسکتا ہے مگر کافر براہ راست جنت میں نہیں جاسکتا۔یہ خدا تعالیٰ کی گستاخی ہے کہ اگر الہام ہوگا تب مانیں گے ورنہ نہیں۔خدا تعالیٰ کو کسی کی کیا پرواہ ہے۔اگر ایک جائے تو وہ لاکھوں لا سکتا ہے۔تم خوب یاد رکھو کہ دعاؤں اور عبادتوں میں گستاخی اور تحکمانہ لہجہ نہیں اختیار کرنا چاہیئے۔عاجزانہ طور پر خدا تعالیٰ کے حضور سے ہر ایک مدد مانگو۔ورنہ دعائیں قبول نہیں ہو سکتیں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ہم سمجھ ، فراست اور حقیقی تقویٰ کی راہ بتادے۔الفضل ۱۰۔جون ۱۹۱۴ ء ) ل البقرة: ۵۷،۵۶